The news is by your side.

Advertisement

صادق سنجرانی کو 60 ووٹ ملیں گے، قائدایوان شبلی فراز کا دعویٰ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرشبلی فراز نے دعویٰ کیا ہے کہ صادق سنجرانی کو60 ووٹ ملیں گے، اپوزیشن ارکان کی اکثریت میر حاصل  بزنجو  پر اعتماد نہیں کررہی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرشبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا اپوزیشن صادق سنجرانی کوگھر بھجوانے کا دعویٰ کرسکتی ہے، اپوزیشن اداروں کو مستحکم کرنےکی بجائے وقتی فائدے کاسوچ رہی ہے۔

شبلی فراز نے دعویٰ کیا صادق سنجرانی کےخلاف تحریک عدم اعتمادناکام ہوگی اور صادق سنجرانی کو60 ووٹ ملیں گے، اپوزیشن ارکان کی اکثریت میرحاصل بزنجو پر اعتماد نہیں کررہی۔

یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتمادکاڈٹ کر مقابلے کا اعلان کرتے ہوئے شبلی فراز کو آزاد سینیٹرز سے رابطے تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ آج ہوگی، تحریک عدم اعتمادکامیاب کرانے کیلئے اپوزیشن کو کم ازکم ترپن ووٹ درکار ہے ، اپوزیشن کامیاب ہوئی تو میر حاصل بزنجوچیئرمین سینیٹ ہوں گے۔

مزید پڑھیں : چیئرمین سینیٹ کون؟ رائے شماری آج ہوگی

سینیٹ اجلاس اور قرارداد سے متعلق تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں اور قرارداد سے متعلق بیلٹ پیپر تیار کرلیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ نے قرارداد پر ووٹ کے لئے ہدایت نامہ جاری کردیا ہے ، جس میں کہا گیا قرارداد پر خفیہ رائے شماری کرائی جائے گی ، ہر رکن حروف تہجی کے حساب سے اپنا بیلیٹ پیپر حاصل کرے گا، قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیکر بیلیٹ باکس میں ڈالنا لازمی ہوگا ، ارکان پر پولنگ بوتھ میں موبائل فون لے جانے پرپابندی عائد ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپر کسی کو دکھانا یا تصویر بنانا سختی سے منع ہے، ووٹ کی رازداری کوہرحال میں یقینی بنایاجائے گا، قرارداد پر رائے شماری بذریعہ خفیہ بیلٹ ہوگی۔

خیال رہے سینیٹ میں مجموعی طورپر ایک سو تین ارکان ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے ایک سو تین میں سے چونسٹھ ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حکومت کے پاس مجموعی طور پر انتالیس ارکان ہیں۔

پی پی،ن لیگ،نیشنل پارٹی،پی کے میپ، جے یو آئی ف، اے این پی حکومت کے خلاف ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایم کیوایم، آزاد ارکان، فنکشنل لیگ، بی این پی مینگل اورآزاد ہیں، ایوانِ بالا میں قرارداد کی منظوری کے لیے صرف ترپن ووٹ درکار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں