site
stats
حیرت انگیز

نوبل انعام سے 13 بار محروم رہ جانے والا ڈاکٹر

اگر آپ کی پرواز تخیل بہت بلند ہے اور آپ نوبل انعام پانے کی خواہش رکھتے ہوں گے تو یقیناً آپ ملالہ یوسفزئی کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھتے ہوں گے جس نے نہایت کم عمری میں نوبل انعام حاصل کر کے پاکستان اور نوبل انعام دونوں کی تاریخ میں اپنا نام درج کروالیا۔

لیکن شاید آپ اس ماہر طب کو نہیں جانتے جسے 13 بار نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا لیکن ہر بار اس کے حصے کا انعام کسی دوسرے شخص کو ملتا رہا۔

مزید پڑھیں: امن کا نوبل انعام ملالہ کے نام

وہ ڈاکٹر کوئی اور نہیں بلکہ یورپی ملک آسٹریا کا نیورولوجسٹ اور معروف مصنف سگمنڈ فرائیڈ ہے۔ اس عظیم ماہر طب نے نفسیاتی تجزیے یعنی سائیکو اینالسس کی تکنیک متعارف کروائی تھی جس کے تحت ڈاکٹر اور مریض آپس میں گفتگو کرتے اور باتوں باتوں میں مریض اپنی جسمانی و دماغی کیفیات سے آگاہ کرتا جاتا۔

سگمنڈ فرائیڈ کی اس دریافت شدہ تحقیق پر آگے چل کر مزید کام کیا گیا۔

مادام تساؤ میوزیم میں سگمنڈ فرائیڈ کا مجسمہ

فادر آف سائیکو اینالسس کہلائے جانے والے فرائیڈ کے کام کو ایک طرف تو بے حد سراہا گیا تاہم دوسری جانب ان پر بے تحاشہ تنقید بھی کی گئی۔

انہیں پہلی بار سنہ 1915 میں طب کے شعبے میں نوبل انعام کے لیے ایک امریکی ڈاکٹر کی جانب سے نامزد کیا گیا، اور اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا حتیٰ کہ ان کی موت سے ایک سال قبل 1938 میں جب انہیں ایک بار پھر نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تو یہ ان کی نوبل انعام کے لیے 13 ویں نامزدگی تھی۔

سگمنڈ فرائیڈ کو 12 دفعہ طب جبکہ 1 دفعہ ادب کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔

انہیں متعدد ماہرین طب اور سائنسدانوں کی جانب سے انعام کے لیے حمایت بھی حاصل رہی مگر سب کچھ بے فائدہ رہا اور وہ ایک بار بھی نوبل انعام حاصل نہ کرسکے۔

بدقسمتی سے اس وقت ان کے نظریے سائیکو اینالسس کو ایک مفروضہ سمجھا گیا۔ اس وقت کے ماہرین طب کا کہنا تھا کہ عصبیات کا کوئی ماہر کیسے اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس کے مریض کے ساتھ بچپن میں جنسی زیادتی ہوئی اور وہ اس کے لاشعور میں دبے اس خوف کا کیسے علاج کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: نفسیاتی مریضوں کے لیے ڈاکٹرز کی سنگین حد تک کمی

جب سگمنڈ فرائیڈ 70 سال کے تھے تب اس وقت انہیں جبڑے کا کینسر لاحق ہوگیا تھا۔

اس وقت فرانسیسی سپہ سالار نپولین پونا پارٹ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی معروف مصںفہ میری بونا پارٹ، جو نہ صرف فرائیڈ کی قریبی دوست تھیں بلکہ ان کی لکھی گئی کتابوں کو ترجمہ بھی کرتی رہیں، نے کوشش کی کہ فرائیڈ کو طب کے شعبے میں نہ سہی، ادب کے شعبے میں ہی نوبل انعام مل جائے۔

میری بونا پارٹ

تاہم اس بار بھی فرائیڈ کو ناکامی کا منہ دیکھا پڑا۔ اس سال ایک اور ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف رومن رولینڈ نے نوبل کمیٹی کو فرائیڈ کی سفارش میں خط لکھا اور کہا، ’گو کہ فرائیڈ کا کام طب کے شعبے میں زیادہ ہے تاہم اگر ان کی تصنیفات کو دیکھا جائے تو وہ بھی کسی شاہکار سے کم نہیں‘۔

تاہم سوئیڈش نوبل اکیڈمی نے ایک بار پھر ان کی نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوبل انعام صرف ان کو دیا جاتا ہے جن کے نظریات اور ایجادات حقائق پر مبنی ہوں۔ ایک مفروضہ کی بنیاد پر کسی کو نوبل انعام نہیں دیا جاسکتا۔

اس وقت کے عظیم سائنسدان آئن اسٹائن نے بھی فرائیڈ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی پر اختلاف کا اظہار کیا تھا۔ ان کا مؤقف بھی کم و بیش وہی تھا جو سوئیڈش اکیڈمی کا تھا۔ آئن اسٹائن کو سنہ 1921 میں طبیعات کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

آئن اسٹائن

اس کے 5 برس بعد آئن اسٹائن اور سگمنڈ فرائیڈ نے ایک مشترکہ منصوبے پر کام شروع کیا جس کے تحت وہ ایک دوسرے کو خط لکھتے اور ان خطوط میں امن، تشدد اور انسانی فطرت کے بارت میں بحث و اظہار خیال کرتے۔ ان خطوں کی سیریز کا نام ’وائے وار ۔ جنگ ہی کیوں‘ رکھا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: آئن اسٹائن کے نظریات پر مبنی ٹی وی سیریز

بعد ازاں آئن اسٹائن نے بھی فرائیڈ کی ادبی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، ’جہاں تک ادب اور لکھنے کا تعلق ہے، تو اس معاملے میں فرائیڈ واقعی شاندار تھا اور اس شعبے میں، میں اس کی کامیابیوں کا اعتراف کرتا ہوں‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top