The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے طیارہ حادثہ، انجن اور لینڈنگ گیئر کے حوالے اہم پیشرفت

کراچی : دو منزلہ عمارت سے انجن اور لینڈنگ گیئر اتارنے کےلیے حکام نے جدید مشینری جائے حادثہ پر طلب کرلی، اس دوران بلڈنگ کو تکنیکل سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ بلڈنگ کرنا سکے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں عید الفطر سے ایک روز قبل قومی ایئر لائن کا مسافر بردار طیارہ ایئرپورٹ کے قریب واقع رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا، حادثے کے نتیجے میں بدقسمت طیارے میں سوار تمام مسافر جاں بحق ہوگئے تھے صرف دو افراد معجزانہ طور پر زندہ بچے تھے۔

جائے حادثہ سے ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے جبکہ پی آئی اے کے تباہ شدہ طیارہ کے انجن اور لینڈنگ گئیر کو اتارنے کا عمل کل سے شروع کیا جائے گا۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ انجن اور لینڈنگ گیئر اتارنے کےلیے حکام نے کل سول ایوی ایشن، پی آئی اے اور تکنیکی ٹیم کل طلب کرلی، اس دوران ٹیکنیکل ٹیمیں بھی موجود ہوں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ انجن کو اتارنے کا عمل منگل تک مکمل کرلیا جائے گا اور اس دوران بلڈنگ کو تکنیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی تاکہ بلڈنگ گرنا سکے، طیارہ کے جائے حادثہ پر ہیوی مشنری اور کرین بھی طلب کی گئیں ہیں۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ قومی ایئرلائن کی ٹیم جائے حادثہ پر ہونے والے نقصانات کی جائزہ رپورٹ مرتب کرے گی اور طیارے کا انجن اور گئیر اتارنے کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم کو سروے کی اجازت دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول کی ٹیم جائزہ لے گی کون سے گھر رہنے کا قابل ہیں اور کون سے گھر حادثے کے بعد خطرناک ہیں اور اس پر تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات، ایئربس کمپنی کی ٹیم اہم شواہد لے کر پیرس روانہ

واضح رہے کہ پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والی ایئربس کمپنی کی ٹیم جہاز کا بلیک باکس اورکاک پٹ وائس رکارڈر لے کر پیرس روانہ ہوگئی ہے، بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ کا عمل کل شروع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 22 مئی جمعۃ الوداع کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئرپورٹ کے قریب واقع ماڈل کالونی جناح گارڈن کی رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 97 مسافر ہلاک جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ حادثے میں مقامی لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں جبکہ پانچ گھر مکمل تباہ ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں