پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز کے زمبابوین بیٹر سکندر رضا نے گزشتہ سال عماد وسیم کی جانب سے دیے گئے بیان پر خاموشی توڑ دی۔
سابق کرکٹر عماد وسیم نے قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 10 کے فائنل میں ٹاس سے چند منٹ قبل سکندر رضا کی قلندرز اسکواڈ میں ڈرامائی واپسی کے بارے میں تبصرہ کیا تھا جو وائرل ہوگیا تھا۔
39 سالہ کھلاڑی نے انگلینڈ کے خلاف ناٹنگھم میں واحد ٹیسٹ میچ میں زمبابوے کی نمائندگی کرنے کے لیے قلندرز سے چھٹی لی تھی۔
وہ میچ ہفتے کی رات دیر گئے ختم ہوا، فائنل کے لیے ان کی دستیابی پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے اس کے باوجود سکندر رضا نے ٹاس سے چند لمحے قبل لاہور قلندرز میں دوبارہ شمولیت اختیار کی اور ٹیبل ٹاپرز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میدان میں اترے۔
اس کے بعد عماد وسیم سے سکندر رضا کو ایک لفظ میں بیان کرنے کو ہا گیا تو انہوں نے فرنچائز کرکٹ کے مالی حیثیت پر بات کی۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ’جیسا شعیب اختر نے کہا ہے پیسہ آپ سے کام کرواسکتا ہے، اگر آپ کو معاوضہ مل رہا ہے تو آپ جائیں گے، میں بھی بہت سفر کرتا ہون کبھی کبھی ایک میچ ختم ہوتا ہے اور اگلے دن دوسرا کھیل رہے ہوتے ہیں، میں نے 24 گھنٹے کا سفر کیا ہے اور براہ راست میچ میں پہنچا ہوں۔
تاہم اب مقامی اسپورٹس پلیٹ فارم سے گفتگو میں سکندر رضا نے کہا کہ میرا فیصلہ مالی فوائد کے بجائے ذاتی اقدار پر مبنی تھا، پیسہ حوصلہ افزا عنصر نہیں تھا، میری ترجیحات احترام، عزت اور وفاداری ہیں، درحقیقت میرے معاہدے سے پیسے کاٹ لیے گئے تھے اس لیے ان کی رائے مجھے پریشان نہیں کرتی کیونکہ یہ درست نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


