مردم شماری فارم میں ’سکھ مت‘ کی عدم موجودگی‘ سکھ برادری سراپا احتجاج -
The news is by your side.

Advertisement

مردم شماری فارم میں ’سکھ مت‘ کی عدم موجودگی‘ سکھ برادری سراپا احتجاج

پشاور: مردم شماری فارم میں مذہب کے خانے میں سکھ مذہب کا نام شامل نہ کیے جانے پر پشاور میں سکھ برادری نے احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق مردم شماری فارم میں مذہب کے خانے میں سکھ مذہب کو شامل نہ کیے جانے پر پشاور میں سکھ برادری نےپشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیااوروفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

سکھ برادری کے اراکین نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سکھ مت ایک باضابطہ مذہب ہے لہذا مردم شماری فارم میں مذہب کے خانے میں سکھ مت کو شامل کرایا جائے۔


پاکستان میں پہلی سکھ طالبہ نے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کرلیا


 مظاہرین کا کہنا تھا کہ سکھ برادری پشاور میں دوسری بڑی مذہبی اکائی ہے‘ 1998 میں مردم شماری کے وقت ہم اتنے منظم اورباشعورنہیں تھے کہ اپنے حقوق کے صلب ہونے کا ادراک کرسکتے۔

sikh-post

 رہنماؤں کا موقف


پشاور پریس کلب کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکھ رہنما راکیش سنگ ٹونی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں قومی مردم شماری کے عمل میں سے مکمل طورپردوررکھا جارہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے‘۔

احتجاج میں عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی اور اس موقع پراین پی کے مقامی رہنما غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’ ان کی جماعت سکھ برادری کے اس مطالبے کی مکمل طورپر حمایت کرتی ہے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں