The news is by your side.

Advertisement

مسلم نوجوان کی جان بچانے والے سکھ پولیس افسر کو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

نئی دہلی : مسلمان نوجوان کو مشتعل ہندوؤں کے تشدد سے بچانے والے پولیس اہلکار کو دھمکیاں ملنے لگیں متعلقہ حکام نے گگن دیپ سنگھ کو رخصت پر بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اترکھنڈ کے پولیس افسر گگن دیپ سنگھ جنہوں نے گزشتہ روز اپنی جان پر کھیل کر ایک مسلمان نوجوان کو ہندو انتہا پسندوں کے چنگل سے چھڑایا تھا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد مذکورہ پولیس افسر کو بے حد پذیرائی بھی ملی، اس کی پاداش میں پولیس افسر کو ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جس پر پولیس حکام نے ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو رخصت پر بھیج دیا ہے۔

قبل ازیں بھارتی ریاست اترکھنڈ میں ایک مسلمان لڑکا ہندو لڑکی کے ساتھ مندر آیا تو انتہا پسندوں نے اسے پکڑلیا اور، جہادی ہونے کا الزام لگا کر تشدد کرنے لگے ایسے میں پولیس اہلکار گگن دیپ سنگھ نوجوان کی مدد کو پہنچا اس دوران ہجوم اس کا راستہ روکتا رہا اور نوجوان پر تھپڑ برساتا رہا لیکن گگن دیپ سنگھ نے ہار نہ مانی وہ اپنا فرض نبھاتا ہوا مسلمان نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچا کر لے گیا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد گگن دیپ سنگھ ہیروبن گیا لیکن یہ کارنامہ انتہا پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھایا، پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں جس کے بعد ڈیپارٹمنٹ نے اسے رخصت پر بھیج دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے کبھی گائے ذبح کرنے پر قتل تو کبھی نماز کی ادائیگی کیلئے مسلمانوں کو مشکلات میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہندو انتہاپسندوں سے مسلمان لڑکے کی جان بچانے والے سکھ پولیس آفیسر کی ویڈیو وائرل

چند روز قبل بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلمان نوجوان کو قتل کردیا گیا تھا، بھارتی پولیس نے قتل کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لیا تھا۔

مزید پڑھیں: وردی میں نہیں ہوتا تب بھی مسلمان نوجوان کی جان بچاتا، بھارتی سکھ پولیس افسر

اس حوالے سے جگن دیپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر بھارتی کو یہ ہی کرنا چاہیے۔‘


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں