ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

چاندی کی قیمت میں اضافے کے بعد اچانک کمی : تاریخ کیا کہتی ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

لندن : چاندی کی قیمت گزشتہ کئی ماہ تک مسلسل اتار چڑھاؤ میں رہی یہ قیمت کیوں اچانک آسمان پر پہنچ جاتی ہیں؟ 2026میں چاندی نے تاریخی ریکارڈ بنایا اور پھر اچانک بڑی گراوٹ کیوں آگئی؟ اس حوالے سے ماہرین نے راز کھول دیا۔

چاندی کی قیمت اچانک بڑھنے اور گرنے کی وجوہات میں سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں کی خریدو فروخت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

دنیا بھر میں الیکٹرانکس مصنوعات، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں چاندی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور طلب بڑھنے سے اس کی لاگت اور قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

بجلی کی ترسیل اور کیمیائی خصوصیات

سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی ایس ) کا چاندی کی قیمت سے گہرا تعلق اس کی بجلی کی بہترین ترسیل اور کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے ہے، جدید ٹیکنالوجیز میں چاندی کا استعمال براہ راست طلب و رسد کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ  نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کرالی ہے جبکہ پاکستان میں بھی 2025 اور 2026 کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں نے چاندی میں سرمایہ کاری شروع کردی۔

ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتوں میں تیزی اور پھر اچانک گراوٹ کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ اس کے پیچھے صنعتی طلب، سرمایہ کاری کے رجحانات، عالمی معاشی حالات اور مارکیٹ کے نفسیاتی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

ماضی میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی کی تاریخ میں کئی بڑے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں قیمتیں 2 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جس کی بڑی وجہ ہنٹ برادران کی جارحانہ خریداری، مہنگائی اور کمزور امریکی ڈالر تھا، تاہم بعد ازاں ریگولیٹری دباؤ اور مارجن کالز کے باعث بالآخر قیمتیں تیزی سے گرگئیں۔

اسی طرح 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد چاندی کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ دیکھا گیا اور 2011میں قیمتیں دوبارہ 50 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئیں۔ تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں شدید مندی آئی اور کئی برس تک قیمتیں محدود دائرے میں رہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے بعد 2020 کی دہائی میں چاندی کی قیمتوں نے دوبارہ تیزی پکڑی۔ 2025 میں صنعتی طلب اور معاشی بے یقینی کے باعث قیمتوں میں 130 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوری 2026 میں چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح تقریباً 121 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ تاہم اس کے بعد جون 2026 تک قیمتوں میں 25 سے 40 فیصد تک کمی بھی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ دھات بیک وقت صنعتی اور سرمایہ کاری دونوں شعبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

چاندی کا استعمال سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں، مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر، الیکٹرانکس اور جدید ٹیکنالوجی میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔

سونے اور چاندی کی قیمت میں موازنہ 

دوسری جانب مہنگائی، شرح سود، امریکی ڈالر کی مضبوطی، جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے رویے بھی قیمتوں پر فوری اثر ڈالتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں سالانہ اتار چڑھاؤ سونے کے مقابلے میں تقریباً دوگنا رہتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا ماننا ہے کہ طویل مدت میں چاندی کی طلب مثبت رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر گرین انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے باعث۔

سرمایہ کار محتاط رہیں

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سرمایہ کار چاندی میں سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط حکمت عملی اپنائیں کیونکہ اس مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ بڑی گراوٹ کا خطرہ بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں