The news is by your side.

Advertisement

دعا اغوا کیس میں مماثلت رکھنے والی گاڑی برآمد

4 دن گزر گئے، پولیس تحقیقات بیانات قلم بند کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے سے آگے نہ بڑھ سکی

کراچی: دعا اغوا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی سے مماثلت رکھنے والی گاڑی شاہراہ فیصل کے قریب سے برآمد کر لی۔

تفصیلات کے مطابق دعا اغوا کیس میں مماثلت رکھنے والی گاڑی شاہراہ فیصل کے قریب سے برآمد ہو گئی ہے، ایس ایس پی ایسٹ تنویر عالم اوڈھو اور دعا کیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر جائزہ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملنے والی گاڑی کا فارنزک کروایا جائے گا، ایس ایس پی تنویر عالم اوڈھو نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی لاوارث حالت میں ملی ہے، ابتدائی طور پر ایسا لگ رہا ہے جیسے ملزمان گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گئے ہوں۔

واضح رہے کہ دعا منگی کو اغوا ہوئے 4 روز ہو گئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ دعا کو آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی ہو، اب تک دعا بازیاب نہ ہو سکی، پولیس کی تحقیقات بیانات قلم بند کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے سے آگے نہ بڑھ سکی، پولیس نے مزید 2 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دعا اغوا کیس: دو طلبہ گرفتار، تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل

کراچی میں ڈیفنس کے علاقے سے اغوا ہونے والی دعا منگی کیس میں اب تک 22 افراد کا بیان ریکارڈ کیا جا چکا ہے، دعا کے والد کا کہنا ہے کہ 10 روز پہلے دعا کا مظفر نامی لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد دعا کو اغوا کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ اغوا برائے تاوان نہیں بلکہ بدلہ لینے کا لگتا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نوٹس لینے کے بعد اس کیس کی تحقیقات کرنے کے لیے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں