site
stats
پاکستان

سندھ اسمبلی کا اجلاس، رینجرز اختیارات پرآج بھی قرار داد پیش نہ ہوسکی

کراچی : رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع کیلئے قرار داد آج  بھی سندھ اسمبلی میں پیش نہ ہوسکی۔ اجلاس کل صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا،  ایوان میں گرما گرم بحث کا امکانتھا ۔ تاہم رینجرز اختیارات کا معاملہ ایجنڈے میں گیارہویں نمبرپر رکھنے پر اپوزیشن اراکین نے بھرپور احتجاج کیا ، جبکہ پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیلئے کمرکس لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کا آغاز اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہوا ، سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رینجرز اختیارات کا معاملہ ایجنڈے میں گیارہویں نمبرپررکھا گیا ہے۔

اس حوالے سے اپوزیشن اراکین اسپیکر آغا سراج درانی کی سیٹ کے سامنے جمع ہوگئے اور انہوں نے شور شرابا شروع کردیا۔

اراکین کا کہنا تھا کہ اسپیکر رینجرز کے معاملے کو ایجنڈے پر لائیں جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ میں آپ کو فالو کرنے کا پابند نہیں ہوں۔ جس پر اراکین نے جو کرپشن کا یار ہے غدّار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔اسپیکر نے اراکین کو رولز پر عمل درآمد کیلئے مختلف ہدایات دیں لیکن کوئی سننے کو تیارہی نہیں تھا۔

بعد ازاں اسپیکر آغا سراج درانی نے اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

علاوہ ازیں حزب اختلاف سےتعلق رکھنےوالےاراکین سندھ اسمبلی نےپیپلز پارٹی کی حکومت کوخبردارکیا ہےکہ کراچی سمیت سندھ میں امن و امان کے قیام کیلئےرینجرزکےاختیارات میں توسیع کےمعاملےکولٹکانےسےگریز کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام جماعتیں رینجرز اورسیکیورٹی فورسزکے ساتھ کھڑی ہیں۔ رینجرز کے اختیارات کو محدود کرنیکی قرارداد کیخلاف مزاحمت کرینگے، سندھ حکومت دہشت گردوں اور بدعنوانوں عناصرکو بچانا چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا نے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے پارٹی اجلاس میں کہا ہے کہ رینجرز کو اختیارات نہ ملے تو احتجاجی تحریک چلائیں گے، اس حوالے سے حکمت عملی مرتب کررہے ہیں۔

رینجرز اختیارات سے متعلق پی ٹی آئی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس جاری ہے جس میں ہڑتال یا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ پر غور کیا جارہا ہے ۔

اجلاس میں ڈاکٹر عارف علوی ، عمران اسماعیل اور فیصل واوڈا سمیت کراچی سے تعلق رکھنے والے اہم پی ٹی آئی رہنما بھی شریک ہیں۔

فیصل واوڈا کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ رینجرز اختیارات کے معاملے پر ہڑتال کی کال بھی دے سکتے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ ہمیں وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنا پڑے، احتجاج کے معاملے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت ہورہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top