The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی کا اجلاس، ایئرپورٹ کے واقعہ کیخلاف قرارداد منظور

کراچی : سندھ اسمبلی نے میں ایئرپورٹ کے واقعہ کیخلاف قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی ، جس میں ایئرپورٹ کے واقعہ کی مذمت کی گئی اور حکومت سے انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا ۔

سینئر وزیر تعلیم اور پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے باری سے ہٹ کر ایک قرار دا دپیش کی ۔ یہ قرار داد منگل کو کراچی ائیرپورٹ پر پیش آنے والے واقعہ سے متعلق تھی ۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر حاجی شفیع محمد جاموٹ ، مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نند کمار اور تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے بھی اس معاملے پر ایک جیسی قرار دادیں پیش کیں ۔ قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی ۔

قرار داد میں کہا گیا کہ ” یہ اسمبلی پی آئی اے ملازمین کی طرف سے نجکاری کے خلاف کیے جانے والے پرامن احتجاج پر تشدد کے واقعہ کی مذمت کرتی ہے ، جس میں تین معصوم جانیں ضائع ہو گئیں اور صحافیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ یہ ایوان حکومت سندھ سے سفارش کرتا ہے کہ وہ پی آئی اے ورکرز ایسوسی ایشن کی مشاورت سے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے اور جلد سے جلد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔

“ قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ پر ہم نے ایک ڈی آئی جی اور دو ایس ایس پیز پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم مقرر کر دی ہے ۔ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کہیں گے تو جوڈیشل کمیشن بھی بنایا جا سکتا ہے ۔

وفاقی حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہ کرنے پر آمادہ ہو جائے ، ورنہ پیپلز پارٹی مزدوروں اور غریبوں کا ساتھ دے گی ۔

اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں حالانکہ دونوں تحقیقات کرانے کی ذمہ دار ہیں ۔ صوبائی وزیر قرار داد میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔ انہیں تو خود آکر یہ بیان دینا چاہئے تھا کہ تحقیقاتی کمیشن بنا لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں پی آئی اے ملازمین کے مظاہرے ہوئے لیکن یہ واقعہ صرف کراچی میں پیش کیوں آیا ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے لوگ کراچی ٹارگیٹڈ آپریشن کی کامیابیوں کے ایک دوسرے سے زیادہ دعوے کرتے ہیں اور اپنے اپنے سینے پر میڈلز سجا لیتے ہیں ۔ جب لاشیں گریں تو وہ ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں ۔

سینئر وزیر برائے تعلیم و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ قومی اثاثوں کو بیچنا ، ماں کو بیچنے کے مترادف ہے ۔ کسی نے کہا کہ جو احتجاج کرے گا ، اس کی نہ صرف نوکری جائے گی بلکہ وہ جیل بھی جائے گا ۔ یہ وہی ذہنیت ہے ، جو مزدوروں کو بھٹیوں میں پھینکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم پی آئی اے ، پاکستان اسٹیل سمیت کسی بھی ادارے کی نجکاری نہیں کرنے دیں گے ۔ یہ ادارے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں ۔ قومی اثاثے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں