The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پانی پر بحث، اپوزیشن کا احتجاج

کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پانی کے معاملے پر منظور وسان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابہ کیا، شہلا رضا نے امداد پتافی کی طرح نصرت سحر عباسی کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دے دی جس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی نے پانی کے معاملے پر تقریر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔

نصرت سحر عباسی نے ایک حکومتی رکن کی طرف اشارہ کیا کہ اس سندھی نے سندھ کے لیے کچھ نہ کیا اور سی سی آئی میں خاموش بیٹھا رہا،انہوں نے بات کرتے ہوئے جوش خطابت میں وزیراعلیٰ سندھ کو مثال دیتے ہوئے ایوان کے ایجنڈے کی کاپی پھاڑ دی۔

بعد ازاں احساس ہونے پر انہوں نے معذرت کرلی اور کہا کہ معذرت چاہتی ہوں، میں جذباتی ہوں، پنجاب پانی کے معاملے پر ہمارے ساتھ زیادتی کر رہا ہے اگر پانی ملا تو سندھ مزید پاور فل ہوجائے گا پنجاب اسی بات سے ڈرتا ہے۔

بعدازاں حکومتی وزیر منظور وسان کی باری آئی تو اپوزیشن نے شور مچایا اور ایوان سر پر اٹھالیا تاہم اسپیکر نے سب کو چپ کرادیا۔

منظور وسان نے اپنی تقریر کے دوران ایم کیو ایم کو پانی کے مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ کراچی والوں کے لیے انہوں نے کیا کیا جس پر ایم کیو ایم نے شور شرابہ کیا۔

شہلا رضا نے کہا کہ کل کئی اسمبلیوں میں ہاتھا پائی ہوئی لیکن ہمیں اچھا تاثر دینا ہے ۔

نصرت سحر عباسی کے مسلسل بولنے پر شہلا رضا نے کہا کہ آپ مت بولیں آپ کا مائیک بند ہے، آپ بولیں گی تو مزید بحث بڑھیں گی، اگر آپ کو بات سمجھ نہیں آرہی تو میرے چیمبر میں آجائیں۔

اس جملے پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں