سندھ اسمبلی مچھلی بازار بن گئی، متحدہ اور پی پی اراکین میں تلخ کلامی شہلا رضا کی فیصل سبزواری سے نوک جھوک
The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی مچھلی بازار بن گئی، متحدہ اور پی پی اراکین میں تلخ کلامی

کراچی : سندھ اسمبلی کا اجلاس آج پھرشدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین میں تلخ کلامی کے بعد بات دھمکیوں تک آپہنچی، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی متحدہ کے فیصل سبزواری سے نوک جھوک ہوتی رہی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت کی شروع ہوا، ایک موقع پر ایم کیوایم اراکین اورڈپٹی اسپیکر  میں نوک جھونک بھی ہوئی۔

شہلارضا نے فیصل سبز واری کو کہا کہ آپ نے توجہ دلاؤ نوٹس غلط پڑھا، میں نے برداشت کیا، جواب میں فیصل سبز واری کا کہنا تھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ نوٹس غلط پڑھا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ میں جو کہہ رہی ہوں وہ درست ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن کامران اختر نے کہا کہ آپ دھمکی دے رہی ہیں، شہلا رضا نے کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہی یہ لکھا ہوا ہے۔ آپ آئندہ ایوان میں نہیں آئیں گے۔

اس موقع پر اجلاس میں ہنگامہ آرائی ہوگئی اور دونوں جماعتوں کے اراکین ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرتے رہے، اراکین نے دھمکیاں بھی دیں۔

علاوہ ازیں اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن صابر قائم خانی نے پانی کی کمی سے متعلق تحریک التوا پیش کی، جس پر پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو نے کا کہنا تھا کہ تحریک التوا پر بحث کیلئے کوئی وقت مقرر کیا جائے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کے بل کی دوبارہ منظوری دے دی گئی، محکمہ صحت میں 400ایڈھاک ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا بل 2018منظور کرلیا گیا، گورنر سندھ محمد زبیر نے اعتراض لگا کر مذکورہ بلز واپس کئے تھے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہو اور ہنگامہ آرائی نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا، یہی روایت سندھ اسمبلی نے آج بھی برقرار رکھی، اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ، شور شرابا اور چیخ و پکار حسب سابق ہوتی رہی۔

سندھ اسمبلی کا ایوان پہلے کی طرح مچھلی بازار کا منظر پیش کرتا رہا،لگتا ہے بات نہ کرنے دینا اورکسی کی ایک نہ سُننا سندھ اسمبلی کی روایت بن چکی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں