site
stats
Uncategorized

سندھ اسمبلی: 18 سال سے کم عمرشخص کے اسلام قبول کرنے پر پابندی

کراچی: سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا جس کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کروانے پر 5 سال قید کی سزا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق یہ بل ایک سال قبل مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نند کمار گولکانی نے پیش کیا تھا جسے آج منظور کرلیا گیا۔

بل کے مطابق بالغ شخص کو مذہب تبدیل کرنے پر غور کے لیے 21 دن کا وقت دیا جائے گا جبکہ 18سال سے کم عمری پر مذہب کی تبدیلی جرم تصور کیا جائے گا۔ بل میں اس شخص کے لیے بھی 5 سال قید کی سزا رکھی گئی ہے جو مذہب کی جبری تبدیلی میں سہولت کاری کا کردار ادا کرے گا۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی آزادی، پسند کی شادی کی آزادی، اور شادی کے لیے کسی بھی شخص کے انتخاب کی آزادی کا انتخاب ہر شخص کو حاصل ہوگا۔ بل میں زبردستی شادی کروانے والے افراد کے لیے بھی 3 سال کی سزا بشمول جرمانہ رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ وہ پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالے سے قانون پاس کیا گیا ہے۔

قبل ازیں بھی سندھ اسمبلی میں ہندو برادری کی شادیوں کو رجسٹر کرنے کے حوالے سے ہندو میرج بل منظور کیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top