site
stats
پاکستان

سندھ اسمبلی: وزیر اعظم کے استعفے کی قرارداد منظور

کراچی: سندھ اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے نواز شریف سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کردیا گیا۔ قرار داد پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے پیش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں حسب معمول شہلا رضا نے اپنے عہدے کا خیال نہ رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار سے تلخ کلامی کی۔ دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے دونوں رہنماؤں کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو تنبیہہ کہ اپنی سیٹ کی عزت کریں۔ ساتھ ہی ڈپٹی اسپیکر سے بھی غصے پر قابو رکھنے کو کہا۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس کا فیصلہ، عدالت کا جے آئی ٹی بنانے کا حکم

ہنگامہ آرائی کے دوران ہی نثار کھوڑو نے وزیراعظم کے خلاف قرارداد پیش کی جس میں انہوں نے نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم کے خلاف ایک اور قرارداد تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

قرارداد کی منظوری کے بعد نثار کھوڑو نے ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم کو ججوں نے کلین چٹ دی؟ 2 ججوں کی جانب سے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا مگر شرم کی بات یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس پر فیصلہ سنا دیا جس میں عدالت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد رپورٹ پیش کرے۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ وزیر اعظم ،حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور جے آئی ٹی 60 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیر اعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پر ہوگا۔ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، نیب کا نمائندہ، سیکیورٹی ایکس چینج اور ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

فیصلے کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد آج یوم نجات اور یوم تشکر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top