The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 18-2017: سندھ حکومت کا 10.04 کھرب کا بجٹ پیش

کراچی: سندھ حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 10 کھرب 4 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا، ترقیاتی اخراجات کی مد میں 254 ارب اور تعلیم کے لیے 202 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج بروز پیر صوبے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ‘ بجٹ میں وسائل کا سب سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیے رکھا گیا ہے‘ تعلیمی بجٹ میں رواں سال 24 فیصد اضافہ کیا گیا ہے‘ تعلیم کا کل بجٹ 202 ارب روپے ہیں۔

تعلیم

یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کے لئے 5ارب روپے کی گرانٹ مختص جبکہ تعلیم کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 17ارب 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کیڈٹ کالج گڈاپ کو ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران 50اسکولز کی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ طلبا کو 2ارب روپے کی لاگت سے درسی کتابیں بلا معاوضہ دی جائیں گی۔ خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈیڑھ روپے کے وظائف دے گئے ہیں۔

اسکول انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لئے 2ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں، سندھ یونیورسٹی جام شورو کےانفرااسٹرکچر کیلئے 15کروڑ 10لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے انفرااسٹرکچر فیز1 کیلئے 12 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ 13کروڑ 10 لاکھ روپے داؤد یونیورسٹی کیلئے رکھنے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اسکالر شپ کی مد میں75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور 8ارب 8 کروڑ روپے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

توانائی بحران

توانائی بحران کے حوالے سے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجلی نہ دے کرصوبے کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے‘ سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والے صوبے میں آج بجلی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ 70 فیصد توانائی پیدا کرتا ہے‘ وفاق بجلی کی پیداوار بڑھانے پر غلط بیانی نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حیسکو کو 27 ارب روپے بل کی مد میں ادا کیے تاہم ادائیگیوں کے بعد بھی بجلی فراہم نہیں کی جارہی ہے جس سے صوبے میں عذاب کی سی صورتحال ہے۔

صحت

صوبے میں صحت سے متعلق صورتحال کو بہت بنانے کے لیے صحت کا بجٹ 100 ارب 32 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘ رواں مالی سال کی مختص رقم 80ارب روپے تھی۔

صحت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے15ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ ایمونائزیشن سپورٹ پروگرام کی مجموعی لاگت 8ارب9 کروڑ روپے مختص ہیں جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکر ز پروگرام کے لئے 2ارب 40 کروڑ روپے اضافی رقم مختص کی گئی ہے۔2100لیڈی ہیلتھ ورکرز کو دور دراز علاقوں میں تعینات کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

صحت مند سندھ پروگرام کے لئے 2ارب 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صحت کے شعبے میں 25ہزارنئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔

ایس آئی یو ٹی کی گرانٹ 4ارب سے بڑھا کر ساڑھے 4ارب روپے کرنے اور انڈس اسپتال کراچی کی گرانٹ کو دگنا کرکے ایک ارب روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ویکسی نیٹرز کی2118اضافی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں، تمام بڑے اسپتالوں میں میمو گرافک مشینیں فراہم کی جائیں گی، اسپتالوں میں 400ملین روپے سے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ سندھ میں اس سال پولیو کاکوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

کراچی میں امن امان کا بجٹ

امن وامان کے لئے 92ارب 91کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ شہدااور زخمیوں کے خاندانوں میں 1ارب روپے تقسیم کئے ۔

پاک فوج نے نئے بھرتی ہونے والے 3000پولیس اہلکاروں کو تربیت دی اور سندھ پولیس میں 10ہزار مزید نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔

سندھ پولیس کو ٹرانسپورٹ کی خریداری کے لئے 2ارب روپے دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سندھ پولیس کی فرانزک لیب کی تعمیر کے لئے 2ارب 60 کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

سندھ پولیس کے لئے انٹیلی جنس اورڈیٹا سینٹر کے قیام کے لئے 28 کروڑ روپے مختص اورسی پیک سے متعلق منصوبوں کی سیکیورٹی کے لئے3000اسامیوں کی تجویز دی گئی ہے۔

اعلیٰ معیارکےہتھیاروں کی خریداری کیلئے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی‘ بڑے شہروں میں سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب کے لئے 20کروڑ روپے مختص دی گئی ہے۔

کراچی کی تعمیر و ترقی کیلئے رقم مختص

کراچی والوں کیلئے پانی، سیوریج اور سڑکوں کے لئے بھی بجٹ میں کچھ رقم رکھ دی گئی ہے۔ بجٹ میں کراچی کیلئے اسپیشل پیکج دیتے ہوئے دس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، شاہراہ فیصل کی توسیع، اسٹارگیٹ اور پنجاب چورنگی پر انڈر پاس کی تعمیر اور شاہین کمپلیکس کے قریب فلائی اوور بنائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ کراچی میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے تین ارب روپے رکھ دیئے گئے۔ سندھ بجٹ میں کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ کے لئے سولہ ارب مختص کر دیئے گئے۔

کراچی میں تیرہ نئے اسپتال بنائے جائیں گے۔ بجٹ میں یلیو، ریڈ اور بلیو بس ٹرانزٹ سسٹم کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کراچی آپریشن کیلئے جدید ہتھیار اور بکتر بند گاڑیاں خریدنے کیلئے سوا پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

 علاوہ ازیں دریائے سندھ سے کینجھر جھیل کو پانی فراہم کرنے والی نہر کیلئے بیس ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔ منچھر جھیل کی بحالی بھی بجٹ میں شامل ہے۔

تنخواہ

سندھ حکومت کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں