The news is by your side.

Advertisement

سندھ کابینہ نے نئے مالی سال کے بجٹ تجاویزکی منظوری دے دی

کراچی : سندھ کابینہ نے نئے مالی سال کے بجٹ تجاویزکی منظوری دے دی ، بجٹ کا تخمینہ11کھرب 44 ارب 44 کروڑ 8 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ نے19-2018کےبجٹ کی منظوری دے دی، سندھ کابینہ کےاجلاس کی صدارت مرادعلی شاہ نے کی، بجٹ کا تخمینہ11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ 8 لاکھ روپے لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارے کا تخمینہ 17سے22ارب تک لگایاگیاہے ، بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا جارہا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہ اورپنشن میں15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے موٹروہیکل ٹیکس آئندہ سال بڑھانے، درآمدی گاڑیوں کےٹیکس میں100فیصداضافے، درآمدی گاڑی کی فیس1 لاکھ سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے، 150 سی سی موٹرسائیکل رکھنے والوں پر3 گناہ زیادہ ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔

اسپورٹس بائیک پر فیس1500سے بڑھا کر 5000 کرنے، موٹر سائیکل ٹرانسفرکی فیس میں50 فیصد اضافے ، 1000،1300 ،2500سی سی گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس جبکہ سی این جی اسٹیشنز اور پٹرول پمپس کی فیس 5000 ہزارکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئےمالی سال کا ترقیاتی پروگرام 343 ارب91 کروڑ تک ہوگا، 202 ارب جاری اور 50ارب نئی اسکیموں جبکہ کے لیے 30ارب روپے ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھنے کی تجویز ہے۔

غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 7کھرب98ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے، دواؤں کی خریداری کیلئے ساڑھے 9ارب روپے رکھنے اور کراچی پیکج میں 23 نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملازمتوں کے سلسلے 22ہزار نئی اسامیاں پیدا کرنے کی تجویز اور کراچی کے جاری منصوبوں کے لیے7ارب 30 کروڑ 23 لاکھ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبے کا تخمینہ 46ارب 76کروڑ لگایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 15 ارب 16 کروڑ کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 31 ارب54 کروڑ کا اضافہ متوقع ہے جبکہ محکمہ آبپاشی کے لیے 28،زراعت کے لیے 5،اوقاف کیلئے 42 کروڑ 50 لاکھ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ کی 6 بڑی درگاہوں کیلئے 27 کروڑ مختص کرنے، امراض قلب کیلئے 25،سولر ٹیوب اور واٹر سسٹم کیلئے 11کروڑ30لاکھ ، محکمہ صحت کے غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 96 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے ساڑھے 12 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، بلدیات اور صحت عامہ کے ترقیاتی پروگرام میں 27 ارب 90 کروڑ کا اضافہ متوقع ہے۔

تعلیم کے مجموعی پروگرام کیلئے 24 ارب 39 کروڑ 85 لاکھ رکھے جانے، اسکولز کے لیے 15 ارب، کالج کے لیے 5 ارب، خصوصی تعلیم کے لیے 20 کروڑ، بورڈ اینڈ یونیورسٹیز کیلئے 3 ارب 24 کروڑ، محکمہ توانائی کیلئے 23 کروڑ 44 لاکھ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کے منصوبوں کیلئے 2 ارب رکھنے، صنعت وتجارت کیلئے ایک ارب 38 کروڑ، انفارمیشن اور آرکائیو2 کے لیے 24 کروڑ 40 لاکھ، انفارمیشن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے50کروڑ رکھنےکی تجویز ہے۔

انفارمیشن سائنس اینڈٹیکنالوجی کیلئے 50کروڑ، قانون و پارلیمانی امور کے لیے 2ارب ، اقلیتی امور کے لیے ڈیڑھ ارب، سندھ اسمبلی کیلئے ایک ارب 83 کروڑ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے اخراجات کے لیے 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے۔

وفاق سے رقم ملنے کا تخمینہ 665ارب روپے کا ہے جبکہ صوبائی آمدنی کی مد میں 140 سے 144 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور ٹیکس شرح میں اضافہ کیےبغیر 35 سے 45 ارب روپے کی وصولی کا امکان ہے۔

سندھ ریونیو بورڈ کا ٹارگٹ اس سال 115 سے 120ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے اور بورڈآف ریونیو کے محاصل کا تخمینہ ساڑھے 18 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس آمدنی میں20ارب روپے سندھ حکومت کو ملنے کا امکان ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں