The news is by your side.

Advertisement

سندھ کابینہ کی مارکیٹ کمیٹی کوقرض دینے کی منظوری

سندھ کابینہ نے مارکیٹ کمیٹی کوقرض دینے کی منظوری دے دی۔ ہائیکورٹ نے مارکیٹ کمیٹی ‏کو پنشن ادا نہ کرنے پر وزیراعلیٰ سمیت کابینہ ارکان اور چیف سیکرٹری کی تنخواہ روکنے کے ‏احکامات جاری کیے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ میں مارکیٹ کمیٹی کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کےمعاملے ‏پربحث ہوئی تھی اور بتایا گیا کہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن 410.838 ملین روپے ‏بنتی ہےملازمین کی تنخواہوں کی ایریئرز 338.029 ملین روپے ہے، مارکیٹ کمیٹی کے مختلف ‏شوگرمل کی طرف 3.66ارب کے واجبات ہیں۔

سندھ کابینہ نے مارکیٹ کمیٹی کوقرض دینے کی منظوری دے دی۔ مارکیٹ کمیٹی اپنے اثاثے بیچ ‏کر سندھ حکومت کو قرض کی رقم واپس کرے گی۔کابینہ نے محکموں کو ہدایات کی کہ وہ ذیلی ‏محکموں کی تنخواہیں پنشن سے متعلق جائزہ لیں۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت سندھ کابینہ کا نیب کے خط پر غور و خوض کیا ‏گیا اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیب نے گریڈ 22تک افسران کے ڈومیسائل کی تفصیلات مانگی ‏تھیں، معاون خصوصی شہزاد اکبر کے خط پرنیب نےیہ خط لکھا، شہزاداکبرکانیب کوخط سیاسی ‏مقاصدکی کوشش تھی، نیب نے غیر قانونی خط لکھا، یہ نیب کےدائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

سندھ کابینہ کی جانب سے نیب کے خط کی مذمت کی گئی ہے۔ سندھ کابینہ کی اس قسم کے ‏خط پرچیئرمین نیب کو تحقیقات کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں