The news is by your side.

Advertisement

“ڈگری” مائی ڈگھی کی یاد دلاتا رہے گا!

سندھ کے مختلف شہروں کے اضلاع اور تعلقہ کی مختلف سیاسی ادوار میں حد بندیاں ہوتی رہی ہیں اور ان علاقوں کی انتظامی لحاظ سے حیثیت بدلتی رہی ہے- کبھی کسی علاقے کو آبادی اور وسائل کی وجہ سے ضلع کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو کبھی کوئی قصبہ ضلعی ہیڈ کوارٹر اور کبھی سب ڈویژن اور تعلقہ بن جاتا ہے-

الغرض سیاسی اور انتظامی امور چلانے کے لیے علاقوں کی حدود اور حیثیت تبدیل کی جاتی رہتی ہے، لیکن یہ تقسیم کبھی شہروں اور قدیم علاقوں کے نام اور ان کی شناخت پر اثر انداز نہیں ہوتی- اس تمہید کے ساتھ یہ بھی بتاتے چلیں کہ میر پور خاص سندھ کا وہ شہر ہے جو پھلوں کے بادشاہ آم کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے اور “ڈگری” اسی میر پور خاص کا ایک چھوٹا شہر ہے-

کیا آپ جانتے ہیں کہ سندھ کے اس ہزاروں نفوس پر مشتمل شہر کا یہ نام کیسے پڑا؟

ڈگری اس شہر کی رہائشی ایک غریب اور بہادر خاتون کے نام سے منسوب علاقہ ہے-

سندھی زبان میں ڈگھو اور ڈگھی کسی طویل القامت انسان کے لیے بولا جاتا ہے-

ڈگری کا علاقہ ایک ایسی خاتون کے نام سے مشہور ہوا جو طویل القامت تھیں- انھیں مقامی لوگ’’مائی ڈگھی‘‘ کے نام سے پکارتے اور جانتے تھے-

مذکورہ خاتون اس زمانے میں سندھ کے حکم راں سرفراز کلہوڑو سے منسوب “سرفراز واہ” کے گھاٹ پر کشتی کے ذریعے لوگوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہچانے کا کام انجام دیتی تھیں-

دریا میں کشتی چلانے والے اور ماہی گیروں یا مسافروں کو آمدورفت کی سہولت دینے والوں کو میر بحر بھی کہا جاتا ہے- مائی ڈگھی بھی میر بحر برادری سے تعلق رکھتی تھیں-

اس زمانے میں اس علاقے کے سارے ہی لوگ مائی ڈگھی کو جانتے تھے- آبادی بہت کم تھی اور اکثر کشتی میں سفر کے دوران مقامی لوگوں کا مائی ڈگھی سے واسطہ پڑ ہی جاتا تھا-

مائی ڈگھی نے اس زمانے میں ایک سفاک لٹیرے اور اس کے پورے گروہ کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا- ڈاکوؤں کے خلاف کوشش اور دلیری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے انھیں خوب شہرت ملی اور اس علاقے کی پہچان ہی بن گئیں- بعد میں یہ ڈگری کہلایا اور آج تک اس کی یہ شناخت قائم ہے-

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں