جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

ای چالان: حکومتِ‌ سندھ کا وہ "تیر” جو عوام کے سینے میں اتر گیا

اشتہار

حیرت انگیز

صوبۂ سندھ کے عوام اور حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں ای چالان سسٹم پر پیپلز پارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کراچی کے سنجیدہ و باشعور عوام خاص طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ حکومتِ سندھ نے اس بڑے اور تجارتی اہمیت کے حامل شہر کی تعمیر و ترقی اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی میں کوئی دل چسپی نہیں لی اور اسے برباد کردیا ہے۔

سندھ میں بالخصوص اٹھارہ سالہ اقتدار کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، انتظامی امور میں غفلت اور سنگین کوتاہیوں کے الزامات کا پی پی پی کو سامنا رہا ہے۔ سرکاری اداروں اور مختلف محکموں کی کارکردگی، ترقیاتی کاموں کے معیار و رفتار کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و بروقت مرمت، ٹریفک کے نظام اور ٹرانسپورٹ کی سستی سہولت بھی عام شہریوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب اور صوبۂ سندھ کی حکومتوں کا موازنہ اب اکثر کیا جانے لگا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ن لیگ نے پنجاب میں ترقیاتی کام کروائے ہیں اور عوام کو سہولیات فراہم کی ہیں لیکن حکومتِ سندھ نے کراچی جیسے بڑے شہر کو بھی اٹھارہ برسوں میں کچھ نہیں دیا۔ پچھلے دنوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے وزرا کے درمیان بھی کارکردگی کی بنیاد پر موازنے کی "جنگ” چھڑی ہوئی تھی جسے "مفاہمت” کی خوشبو سنگھا کر روکا گیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر یہ سلسلہ جاری ہے اور کراچی میں "ای چالان” کا نظام متعارف کروانے کے بعد اس میں تیزی آگئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ کو پنجاب کے چالان سسٹم کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ کراچی کے شہری سمجھتے ہیں کہ ای چالان سسٹم کے ذریعے حکومت ان کی جیب سے زبردستی رقم نکلوا رہی ہے۔

ای چالان سے متعلق اس شور و غوغا میں اگر خالص تنقید کو الگ کیا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ کراچی کو حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کا مکمل اور فعال نظام نہیں‌ دے سکی ہے، یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ سڑکوں کی خستہ حالی اور بربادی سبھی دیکھ رہے ہیں۔ حکومتِ سندھ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی طرف سے تو یکسر بے نیاز ہے، لیکن عوام کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کا خبط ایسا ہے کہ حکومت مثبت اور تعمیری تنقید پر بھی توجہ نہیں‌ دے رہی۔ عوامی نمائندے یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ان کے ووٹرز اور دوسرے شہری ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں‌ اور عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے انھیں کس قسم کے فیصلے کرنے چاہییں۔ اس کی وجہ ان کی سندھ میں وہ سیاسی برتری اور طاقت ہے جو بالخصوص ایم کیو ایم کے کمزور پڑنے اور دوسری جماعتوں کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں اس جماعت کے اقتدار کو طول دیے جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نمبر پلیٹ کا معاملہ ہو یا ای چالان، عوام کو من چاہے اقدامات اور فیصلوں کا بوجھ ڈھونا پڑ رہا ہے۔ ہم بھی ان حالات میں یہی سمجھتے ہیں‌ کہ ای چالان کی شکل میں بھاری جرمانے شہریوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ عوام ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور ٹریفک قوانین کی پاس داری کریں۔ اب انھیں کوئی بتائے کہ آپ نے جدید سسٹم کے تحت شاہ راہوں‌ پر کیمرے لگانے میں تو عجلت کی، مگر اسی عجلت کا مظاہرہ شہر کی ٹوٹی پھوٹی اور جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی سڑکوں کی مرمت کرنے میں کرتے اور اسپیڈ لمٹ بورڈ آویزاں کرتے تو شہریوں کے پاس اس کڑی تنقید کا کوئی جواز نہیں ہوتا اور چالان بھرنے میں کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ عوام کے اس سے متعلق خدشات اور تحفظات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور فی الحال ایسا نہیں ہورہا ہے۔

کل تک حکومتی اراکین اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران نے بڑے فخریہ انداز میں بتایا تھا کہ سیٹ بیلٹ نہ لگانے والوں کے 6 ہزار سے زائد چالان کیے گئے ہیں اور 10 ہزار روپے جرمانہ دیا گیا ہے۔ 1700 سے زائد گاڑیوں کے چالان اوور اسپیڈنگ پر کیے گئے جب کہ موٹر سائیکل کی اوور اسپیڈنگ پر 5 ہزار روپے کا چالان بنتا ہے۔ گاڑیوں کی اوور اسپیڈنگ پر 10 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، ہیوی ٹریفک کی اوور اسپیڈنگ پر 20 ہزار روپے کا چالان ہوتا ہے۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ 2 ہزار سے زائد چالان ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کو دیے گئے ہیں۔ ایک شہری 5 ہزار روپے جرمانہ بھرے گا۔ اسی طرح ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال پر 450 چالان ہوئے، 790 چالان سگنل کی خلاف ورزی پر اور ٹینٹڈ گلاس، ون وے، رانگ وے کے علاوہ غیر قانونی پارکنگ پر بھی شہریوں کے چالان کیے گئے ہیں۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ تین روز کے دوران کئی سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 2053 چالان ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کے ہوئے ہیں۔ چالان کی مد میں تین روز کے دوران ایک کروڑ 2 لاکھ 65 ہزار روپے وصول ہوں‌ گے۔

ای چالان کے نفاذ کا معاملہ سندھ اسمبلی میں‌ بھی پہنچا گیا ہے اور ماضی میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوّت کے طور پر سندھ میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہنے والی جماعت ایم کیو ایم نے تحریکِ التوا جمع کرا دی ہے۔ ایم کیو ایم نے صوبائی اسمبلی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے ٹریفک کے بنیادی انتظامات اور روڈ سیفٹی اقدامات کو یقینی بنائے بغیر شہریوں پر الیکٹرانک چالان سسٹم تھوپ دیا ہے۔ تحریکِ التوا کے متن میں ہے کہ پورے شہر اور صوبے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں شہریوں کے لیے شدید مشکلات اور حادثات کا باعث بن رہی ہیں، جب کہ نقل و حمل کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، شہریوں کے پاس عوامی ٹرانسپورٹ کے قابلِ عمل آپشنز موجود نہیں، جس سے روز مرہ سفر ایک عذاب بن چکا ہے۔ ممکن ہے کہ اس طرح‌ صوبائی حکومت اپنے اس اقدام پر نظرِ ثانی کرے یا جرمانے کی رقم گھٹا دی جائے تو شاید عوام کچھ ریلیف محسوس کریں۔

ای چالان کا نظام اگر سڑکوں‌ پر ٹریفک کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور کسی بھی قسم کی غیرذمہ داری یا حادثات میں کمی آتی ہے تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، مگر اس کی مخالفت اور اس پر جو تنقید ہو رہی ہے، اسے بھی حکومتِ سندھ اہمیت دے اور اس تنقید کو محض شور اور فوری ردعمل سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ اس پر شہری امور کے ماہرین، متعلقہ محکمہ جات اور ٹریفک پولیس کے سینئر اور تجربہ کار افسران سے مشاورت کرکے عوام کے خدشات اور تحفظات کو دور کیا جانا چاہیے۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور ٹریفک سسٹم اور نقل و حمل کا مؤثر نظام تشکیل دینے کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جانے چاہییں۔

Website |  + posts

صحافی و بلاگر، 8 سال سے اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں

اہم ترین

نعمان ناصر
نعمان ناصرhttps://arynews.tv/
صحافی و بلاگر، 8 سال سے اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں

مزید خبریں