The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت اور آئی جی سندھ ایک بار پھر آمنے سامنے

کراچی: ایس پی ڈاکٹر رضوان کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت اور آئی جی سندھ ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے ایس پی ڈاکٹر رضوان کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا، ذرایع کا کہنا ہے کہ آئی جی نے سندھ حکومت کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر رضوان کو عہدہ چھوڑنے سے منع کیا ہے۔

ذرایع کے مطابق ڈاکٹر رضوان کو صوبہ بدر کرنے کے معاملے پر مزید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، چیف سیکریٹری کے حکم کے باوجود ایس پی ڈاکٹر رضوان نے عہدہ نہیں چھوڑا، سندھ حکومت چند روز قبل آئی جی سندھ کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، سوال یہ اٹھا ہے کہ کیا آئی جی حکومت کے فیصلے کے خلاف ڈاکٹر رضوان کو عہدہ چھوڑنے سے روک سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعلیٰ سندھ نے ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والا پر پولیس رپورٹ مسترد کر دی

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کے وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف بیان کے بعد آئی جی اور وزیر اعلیٰ سندھ کے اختلافات میں مزید شدت آ گئی ہے۔

ٹارگٹ کلر کے بیان کے بعد آئی جی سندھ اور دیگر پولیس افسران کی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے 5 گھنٹے ملاقات ہوئی تھی، پولیس افسران نے سنگین غلطی کا اعتراف کیا، وزیر اعلیٰ نے ٹارگٹ کلر پر پولیس رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا یہ غفلت نہیں بلکہ بیان میرے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے، مجھے بتایا جائے میرے خلاف بیان کس نے دلوایا، پولیس حقایق بتا دے ورنہ میں کارروائی کروں گا۔

واضح رہے کہ ايس پی شکارپور ڈاکٹر رضوان نے 24 نومبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وڈیرے ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرتے ہیں، جب پولیس ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو اعلیٰ حکام پولیس کی مدد نہیں کرتے، اس بیان کے بعد ڈاکٹر رضوان کو معطل کرتے ہوئے صوبہ بدر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں