The news is by your side.

Advertisement

پولیس آرڈر بحالی بل: سندھ حکومت نے اپوزیشن کی متعدد تجاویز مان لیں

کراچی: پولیس آرڈر بحالی بل کے معاملے پر حکومتِ سندھ اور اپوزیشن کے درمیان مثبت پیش رفت ہوئی ہے، سندھ حکومت نے اپوزیشن کی متعدد تجاویز تسلیم کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور سول سوسائٹی کے درمیان پولیس آرڈر بحالی بل پر مذاکرات ہوئے، حکومت نے اپوزیشن کی کئی تجاویز مان لیں۔

پولیس افسران کے تقرر اور تبادلوں کے لیے آئی جی سندھ کی مشاورت لازمی قرار دی گئی، کسی بھی کیس کی تفتیش منتقل کرنے کا وزیر داخلہ کا اختیار واپس لیا جائے گا۔

پولیس آرڈر 2002 بحالی بل کا نظرِ ثانی شدہ مسودہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا، پبلک سیفٹی کمیشن کے آزاد ارکان کے انتخاب پر بھی حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں صوبے میں پولیسنگ کا مؤثر نظام آئے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بعض نکات پر اتفاق ہوا ہے۔

خیال رہے کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ پولیس آرڈر 2002 کو 2011 کی شکل میں بحال کیا جائے، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ پولیس سندھ حکومت کو جواب دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گورنر سندھ نے پولیس ریفارمز ایکٹ اعتراضات لگا کر مسترد کردیا

30 اپریل کو حکومت سندھ کے ایک اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 2002 کا پولیس قانون کچھ ترمیم کے ساتھ سندھ اسمبلی کو بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

تاہم یہ ترمیمی بل جب 30 مئی کو گورنر سندھ عمران اسماعیل کے پاس توثیق کے لیے پہنچا تو انھوں نے پولیس ریفارمز ایکٹ اعتراضات لگا کر مسترد کر دیا، انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ریفارمز ایکٹ کی 190 شقوں میں سے 80 حذف کر دی ہیں، بل میں اتنی تبدیلیاں کی گئیں کہ کسی صورت اسے بل نہیں کہا جا سکتا ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کو یہی کرنا تھا تو پولیس ریفارمز ایکٹ کے بجائے نیا بل لے آتی، بل کے تحت آئی جی سندھ کے اختیارات بالکل ختم کر دیے گئے ہیں، بل کے تحت آئی جی سندھ کا کردار ایک ڈاکیا یا پوسٹ مین کا رہ جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں