The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت نے آٹے کی قیمت میں اضافے کا ذمےدار وفاق کو قرار دے دیا

کراچی: سندھ حکومت نے آٹے کی قیمت میں اضافے کا ذمےدار وفاق کو قرار دے دیا ہے، وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت 40 ہزار میٹرک ٹن گندم پڑوسی ملک کو نہ بھیجتی تو بحران نہ ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے آٹے بحران کی ذمہ داری کو بھی وفاقی حکومت پر ڈال دیا، وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم پڑوسی ملک بھیجی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔

اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سبب وفاقی حکومت کی پالیسیاں ہیں، یہ سب مہنگائی کے سونامی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے صوبے میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو آٹا مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گندم کا بحران نہیں ہے، فلور ملز مالکان کو آٹے کی قیمت میں اضافے کی اجازت نہیں دیں گے، کراچی میں آٹے کی سرکاری قیمت 45 روپے فی کلو مقرر ہے۔

سندھ حکومت نے گیس بحران پر وفاقی وزیر توانائی کا دعویٰ مسترد کر دیا

صوبائی وزیر نے کہا کہ فلور ملز مالکان اور دکان داروں نے سرکاری نرخ پر عمل نہ کیا تو ملیں اور دکانیں سیل کر دیں گے، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر سمیت تمام ڈویژنز میں آٹا مہنگا فروخت کرنے والی ملز اور دکان دا روں کے خلاف ڈی سی کارر وائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ڈیڑھ سال میں مہنگائی پر کوئی کنٹرو ل نہیں کیا، اب چند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے عوام کو لوٹا جا رہا ہے، وفاقی حکومت ملک کے عوام سے بھاری ٹیکسز لینے کے باوجود بھی مہنگائی کم نہ کر سکی۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت نے صوبے اور ملک میں گیس بحران کے لیے بھی وفاقی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں