حکومت سندھ کا آئی جی سندھ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

حکومت سندھ کا آئی جی سندھ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

کراچی : حکومت سندھ نے آئی جی سندھ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ کرلیا ہے، گیارہ ستمبر کو فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے آئی جی سندھ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، پیر کو فاروق ایچ نائیک پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کریں گے۔

یہ فیصلہ حکومت سندھ کی قانونی ماہرین نے مشاورت کے بعد کیا، پانچ قانونی ماہرین اعتزازاحسن،لطیف کھوسہ،فاروق ایچ نائیک،ضمیرگھمرواورشہادت اعوان نے سندھ ہائیکورٹ کے سوصفحات پر مشتمل فیصلے کا جائزہ لیا۔

صوبائی وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ فیصلے کے چند نکات آئین وقانون کے مترادف ہیں اور صوبائی حکومت کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی ضرورت نہیں، سندھ ہائیکورٹ فیصلے کے کئی نکات میں حکومت کی عملداری کو چیلنج کیا گیا، ایسے فیصلے سے سندھ حکومت کی عملداری متاثر ہوگی۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس یکم اپریل کو سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کےحوالے کرنے کے اسلام آباد کو خط لکھا جس میں آئی سندھ کے عہدے کے لیے عبدالمجید دستی، خادم حسین بھٹی اور غلام قادرتھیبو کے نام تجویز کیے گئے تھے۔


اے ڈی خواجہ فارغ، عبدالمجید دستی عارضی آئی جی سندھ مقرر


سندھ حکومت کی جانب سے 2 اپریل کو اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے سردار عبدالمجید کو قائم مقام آئی جی سندھ مقرر کیا گیا تھا۔


قائم مقام آئی جی سندھ کا نوٹی فیکیشن معطل


بعدازاں عدالت نے آئی جی سندھ کی معطلی سے متعلق نوٹی فیکیشن کو معطل کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت کی جانب سے غلام حیدر جمالی کی برطرفی کے بعد گزشتہ سال مارچ میں آئی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں