کراچی : سندھ حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے مزید 1000 پنک الیکٹرک (EV) اسکوٹیز خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ بھر کے شہریوں، بالخصوص خواتین کے لیے سفری سہولیات کو جدید بنانے کے حوالے سے بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے مزید 1000 پنک الیکٹرک (EV) اسکوٹیز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شرجیل میمن نے متعلقہ حکام کو پنک اسکوٹیز کی رجسٹریشن میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہیں۔
صوبے میں ماس ٹرانزٹ کو بہتر بنانے کے لیے انٹر سٹی پیپلز بس سروس شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی، لاڑکانہ، حیدرآباد، دادو اور سیہون سمیت دیگر اضلاع میں جلد انٹر سٹی بسیں چلائی جائیں گی جبکہ خیرپور تا روہڑی اور خیرپور تا رانی پور کے نئے روٹس آئندہ ہفتے سے فعال کر دیے جائیں گے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شہرِ قائد کے لیے اگلے چند ماہ میں نئی بسوں کی مزید کھیپ پہنچ جائے گی۔
اجلاس میں کراچی سمیت پورے سندھ میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مرحلہ وار جدید بنانے پر اتفاق کیا گیا اور کہا گیا کہ سندھ میں پہلی بار ٹرانسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ خواتین، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کی سہولت ہماری اولین ترجیح ہے۔
سینئر وزیر نے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کو سستی اور بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔


