سندھ حکومت کا آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہSindh
The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت کا آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ

کراچی : آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کیلئے حکومت سندھ نے وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ساتھ ساتھ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر اپیلیں دائر کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کیلئے حکومت سندھ نے اقدامات تیزکردیئے، ہفتے کو صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد حکومت سندھ نے آئی جی کی تبدیلی کے لئے وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خط کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے، دو دن میں خط ارسال کردیا جائے گا۔

صوبائی وزیرقانون ضیا الحسن کا کہنا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق مسئلہ حل کررہے ہیں، فیصلہ رواں ہفتے تک کرلیا جائے گا، وزیراعلٰی کی ہدایت پرپولیس میں تقرریوں اور تبادلوں پر اپیل دائر کریں گے۔


مزید پڑھیں : اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کیلئے سندھ کابینہ سے منظوری لینے کا فیصلہ


یاد رہے دو روز قبل اےڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پولیس قوانین میں تبدیلی پر غور شروع کردیا تھا، اس سلسلے میں سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کیلئے کابینہ سے منظوری لینے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ آئی جی کو گریڈ22کے افسر سے تبدیل کیا جائے گا۔

اس سے قبل بھی صوبائی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو ہٹایا تھا لیکن سندھ ہائیکورٹ نے تبدیلی روک دی تھی۔

واضح رہے کہ رواں برس یکم اپریل کو سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کےحوالے کرنے کے اسلام آباد کو خط لکھا تھا، جس میں آئی سندھ کے عہدے کے لیے عبدالمجید دستی، خادم حسین بھٹی اور غلام قادرتھیبو کے نام تجویز کیے گئے تھے۔


مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ کا آئی جی کوعہدے پربرقرار رکھنےکا حکم


سندھ حکومت کی جانب سے 2 اپریل کو اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے سردار عبدالمجید کو قائم مقام آئی جی سندھ مقرر کیا گیا تھا۔

بعدازاں عدالت نے آئی جی سندھ کی معطلی سے متعلق نوٹی فیکیشن کو معطل کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت کی جانب سے غلام حیدر جمالی کی برطرفی کے بعد گزشتہ سال مارچ میں آئی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں