The news is by your side.

Advertisement

سندھ:‌ آئندہ تین ماہ کا بجٹ‌ پیش، کل حجم 11 کھرب 44 ارب روپے

تین ماہ کے لیے پیش کیا گیا منی بجٹ 30 ستمبر تک نافذ العمل ہوگا

کراچی: سندھ حکومت نے تین ماہ کے لیے منی بجٹ پیش کردیا جو 30 ستمبر تک نافذ العمل ہوگا،   ٹیکس فری بجٹ  کا کل حجم 11 کھرب 44 ارب روپے ہے جبکہ اس میں کسی نئی اسکیم کو شامل نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں مراد علی شاہ نے آئندہ تین ماہ کا صوبائی بجٹ پیش کیا، اُن کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت دوبارہ مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہوگی۔

تقریر کے آغاز پر وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 20 روز بعد اسمبلی کی مدت پوری ہوجائے گی، اللہ کے کرم سے اسمبلی نے اپنے 5 سال مکمل کیے، آئین کے تحت صوبائی حکومت پورے سال کا بجٹ پیش کرسکتی ہے مگر پارٹی قیادت نے تین ماہ کا بجٹ دینے کی منظوری دی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ حکومت صرف 3 ماہ کے لیے بجٹ پیش کرے گی، یکم جولائی سے 30 ستمبر تک کا بجٹ آج پیش کیا جارہا ہے بعد میں منتخب ہونے والی حکومت 30 ستمبر کے بعد کا بجٹ پیش کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس سال صوبے میں کوئی بھی دہشت گردی کا بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، پہلے لاشوں کی باتیں ہوتی تھیں آج صرف امن کی بات ہورہی ہے اس لیے شہر قائد نے پرنس کریم آغاز خان اور بوہری جماعت کے روحانی پیشوا کو خوش آمدید کہا اس کے علاوہ ہم نے پی ایس ایل کا فائنل بھی کراچی میں منعقد کروایا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہبجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی تاہم پرانی اسکیموں کو مکمل کرنے کے لیے فنڈ مختص کیے گئے ہیں، بجٹ کا کل  تخمینہ11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ 8 لاکھ روپے جبکہ اس کے خسارہ 17سے22ارب تک مختص کیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 10 ماہ میں اب تک 423 ارب روپے ملے جبکہ آئندہ 2 ماہ میں 175 ارب روپے کی وفاق سے ادائیگیاں باقی ہیں، اگر یہ رقم نہ ملی تو مختلف اسکیمیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

ترقیاتی منصوبے

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کاکل تخمینہ 343.90ارب روپے ہے ، کل تخمینہ سے 282 ارب روپے صوبائی بجٹ سے دیئے جائیں گے جبکہ 46.894 ارب روپے غیر ملکی امداد کے منصوبوں سے وصول ہوں گے۔  اُن کا کہناتھا کہ 15.02 ارب روپے ترقیاتی اسکیموں کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور سندھ حکومت اس سال 714 اسکیمیں مکمل کرلے گی۔

ٹیکس محصولات

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 197 ارب روپے ٹیکس محصولات کی مد میں آمدن متوقع ہے، بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کو شامل نہیں کیا گیا۔

تعلیم

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس حکومت نے 14 بڑی جامعات تعمیر کیں، آئندہ تین ماہ کے لیے  تعلیم کاغیر ترقیاتی بجٹ 205.739ارب روپے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 3309اسکیموں کیلئے24.4ارب روپے مختص کیے گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے 25 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا، جس کے تحت نئے سندھ کے مختلف ضلعوں میں اسکول تعمیر کیے جائیں گے جہاں بجلی اور پانی کی مکمل سہولیات ہوجائیں گی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 21 اسکولوں کی تعمیر 19 ارب روپے کے اخراجات سے مکمل کرلی جائے گی،

صحت / ادویات

وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ صحت کیلئےغیرترقیاتی بجٹ کی مد میں12.2ارب رکھےگئے جبکہ شعبے میں ترقیاتی بجٹ کی مدمیں 12.50ارب روپے مختص کیے گئے۔

صحت کے شعبے میں 5.12 ارب روپے کی لاگت سے 68 نئی اسکیمیں شروع کیں، جبکہ ایس آئی یو ٹی کو 5 ارب روپے دیے جائیں گے علاوہ ازیں غذائی قلت اور سوکھے کی بیماری سے لڑنے کے لیے 5.1 ارب روپے مختص کیے گئے۔

سی پیک

پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت کے لیے علیحدہ سیکیورٹی فورس تشکیل دی اور  2 ہزار 959 لوگوں کو خصوصی تربیت بھی دی، مجموعی طور پر حکومت کی کوشش ہے کہ پولیس کو بہتر ٹریننگ کرائی جائے تاکہ کارکردگی مزید بہتر ہو۔

 امن و عامہ

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں امن و امان کے لیے 95 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ سندھ پو لیس کے لیے 5.348ارب رو پے رکھے گئے جبکہ پا کستا ن رینجرز سندھ کے لیے 306.855ملین رو پےرکھے گئے ہیں علاوہ ازیں ایف سی سندھ کے لیے 14.865 ملین روپے مختص کیے گئے، محکمہ داخلہ اور متعلقہ دفاتر کے لیے 42.996 ملین روپے مختص کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ شہید اہلکا رو ں کے لوا حقین اور زخمی اہلکاروں کے لئے 2ارب مختص کیے گئے جبکہ سندھ پولیس کے مختلف رینکس میں 11259 بھرتیاں کی جائیں گی۔

بجٹ‌ دستاویز

null

null


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں