The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت کا دیوالی سے قبل ہندو ملازمین کو تنخواہیں دینے کا حکم

کراچی: سندھ حکومت نے مذہبی رسم دیوالی سے قبل تمام ہندو ملازمین کو تنحواہیں، پینشن سمیت تمام الاؤنس دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت ایڈیشنل فنانس سیکریٹری 30 اکتوبر سے قبل ادائیگی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے ماتحت ہندو ملازمین کو دیوالی سے قبل تنخواہیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ایڈیشنل فنانس سیکریٹری نے نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ ’’30 اکتوبر کو ہندو برادری کی دیوالی سے قبل تمام مستقل، کنٹریکٹ اور یومیہ آمدنی(ڈیلی ویجز) والے تمام ہندو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی جائے‘‘۔

ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا ہے کہ ’’تمام ہندو ملازمین کے ماہ اکتوبر کے واجبات (تنخواہیں، پینشن سمیت تمام الاؤنس) یکم نومبر کے بجائے 24 اکتوبر تک ادا کردیئے جائیں تاکہ ہندو ملازمین دیوالی کی مذہبی رسم صحیح طریقے سے منا سکیں‘‘۔

diwali-post-1

دوسری جانب 16 اکتوبر کو یومِ شہداء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا تھا کہ ’’پاکستان میں بسنے والی اقلیت ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے 30 اکتوبر کو کراچی میں ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی دیوالی منائی جائے گی جس کے ذریعے مودی اور عالمی دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں سب کو برابر کے حقوق دیے جاتے ہیں‘‘۔

واضح رہے ہندو برادری ہر سال موسم بہار میں دیوالی کے مذہبی تہوار کو مناتی ہے، اس کو عام طور پر دیوالی، دیپاولی اور عید چراغاں بھی کہا جاتاہے۔ اس مذہبی رسم کی تیاریاں 9 دن قبل شروع ہوجاتی ہیں اور دیگر رسومات 5 دن تک جاری رہتی ہیں۔

اماوس یا نئے چاند کی رات کو اہم سمجھا جاتا ہے اور اس دن سب اپنے گھروں میں چراغ روشن کرتے ہیں۔ یہ تہوار شمسی قمری ہندو تقویم کے مہینے کارتیک میں منایا جاتا ہے، گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر اور وسط نومبر میں آتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں