The news is by your side.

بانی متحدہ اور اہل خانہ سے منسوب عوامی مقامات کے ناموں‌ کی تبدیلی سے متعلق عملدرآمد رپورٹ‌ طلب

کراچی: سندھ حکومت نے بانی ایم کیوایم اور ان کے اہل خانہ سے منسوب شہر قائد کی مختلف شاہراہوں سمیت دیگر مقامات کے ناموں کو تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 27 نومبر تک عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے ماتحت سرکاری اداروں کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ بانی ایم کیو ایم یا اُن کے اہل خانہ سے منسوب عمارتوں، پارکس، گراؤنڈ، گلیوں اور شاہراہوں کے نام تبدیل کریں۔

حکومت سندھ نے محکمہ صحت، بلدیات، تعلیم ، کمشنر کراچی، میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ سمیت 6 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خط ارسال کیا جس میں ہدایت کی کئی ہے کہ ناموں کی تبدیلی سے متعلق عملدرآمد رپورٹ 27 نومبر تک جمع کرائیں تاکہ اُسے آئندہ ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: مکا چوک کا نام ’’شہید ملت لیاقت علی خان‘‘ چوک رکھنے کا فیصلہ

حکومت نے متعلقہ اداروں سے سوال کیا ہے کہ اپیکس کمیٹی کے فیصلے  پر کس حد تک عملدرآمد ہوا؟ کیا فہرست کے علاوہ بھی شہر میں کوئی اور مقامات بھی موجود ہیں؟۔

سندھ حکومت نے  کراچی اور دیگر علاقوں میں موجود  51 مقامات جن کی پہلے سے  ہی نشاندہی کردی گئی تھی اُن کے ناموں کی تبدیلی پر  عمل درآمد رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بھیجی جانے والی فہرست کے مطابق بانی ایم کیوایم اور ان کے اہل خانہ کے ناموں سے  18 پارکس ،17 اسکول، ایک یونیورسٹی، دو لائبریریز، 4 ڈسپینسریاں، 7 گلیاں، پل، انڈرپاسز، 2 کمیونٹی ہال اور ایک کرکٹ اکیڈمی الطاف حسین، نذیر حسین، خورشید بیگم یا بیٹی افضا الطاف ناموں سے منسوب ہے۔

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی میں 27 مارچ 2017 کو ہونے والے اجلاس کے دوران ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس کے تحت الطاف حسین یونیورسٹی کے کراچی اور حیدرآباد میں موجود کیمپس کا نام عبدالستار ایدھی اور مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے ناموں سے تبدیل کردیا گیا تھا۔

اسی طرح سال 2016 میں سندھ حکومت عزیزآباد میں واقع مکا چوک کا نام بھی تبدیل کر کے اسے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے نام سے منسوب کرچکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں