The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت کا سانحہ کارساز کی تحقیقات بڑھانے کا فیصلہ

کراچی : سندھ حکومت نے سانحہ کارساز کی تحقیقات کے بعد اُس کے وقت تمام سرکاری اور انتظامی افسران بہ شمول سابق وزیر اعلیٰ سندھ،وزراء اور سٹی ناظم کو شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے سانحہ کارساز 18 اکتوبر 2007 کی ازسر نو تحقیقات کا عندیہ دیتے ہوئے چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی ہدایت پر 7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان کیا تھا۔

تفصیل جانیے : وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ کارسازکی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم بنانے کا اعلان

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ دو دِنوں میں ہونے کا امکان ہے جس میں اس کیس کے حوالے سے قانونی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی اور تحقیقات کے دائرہ کار کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی سے متعلق : سانحہ کارساز کے دو منصوبہ ساز گرفتار

سندھ حکومت نے اس سلسلے میں 2007 میں حکومتی اور انتظامی مشینیری میں شامل کرتا دھرتا لوگوں سے بھی معلومات اور تحقیقات میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

چنانچہ تحقیقاتی کمیٹی اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم،وزیر داخلہ وسیم اختر،سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال، چیف سیکرٹری، آئی جی سندھ،سی سی پی او کراچی سمیت دیگر انتظامی افسران کو شاملِ تفتیش کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ کارساز کی قیامت صغریٰ کو نو برس بیت گئے

واضح رہے کہ 18 اکتبوبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیرپرسن بے نظیر بھٹو دس سالہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد وطن واپس لوٹی تھی اور قافلے کی صورت میں کراچی ایئر پورٹ سے بلاول ہاؤس کی جانب رواں دواں دی تھیں کہ کارساز کے مقام پر خود کش دھماکے میں 180 سے زائد کارکنان جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے،اس حملے میں بی بی محفوظ رہیں تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں