The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بلدیہ فیکٹری، عزیربلوچ اور نثارمورائی کیخلاف جے آئی ٹی رپورٹس آج پبلک کی جائیں گی

کراچی : سانحہ بلدیہ فیکٹری،عزیربلوچ اورنثارمورائی کےخلاف جےآئی ٹیزآج  پبلک کی جائیں گی، سانحے بلدیہ اور عزیر بلوچ سے متعلق تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے جرائم اور دہشت کے دو کرداروں عزیر بلوچ اور نثار مورائی سمیت سانحے بلدیہ کے سلسلے مین مرتب کردہ جے آئی ٹیز کو آج عوام کے لئے پبلش کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق پیر کے روز تینوں جے آئی ٹی رپورٹس کو سندھ کے ہوم ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر شاعہ کردی جائیں گی، تینوں رپورٹس میں دو رپورٹس سانحے بلدیہ اور عزیر بلوچ سے متعلق تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہے جبکہ نثار مورائی سے ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں : عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پہلی بار منظر عام پر، سیکڑوں‌ قتل کا اعتراف

یاد رہے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے تھے ، جے آئی ٹی رپورٹ میں حبیب جان، حبیب حسن، سیف علی اور نور محمد سمیت عزیر بلوچ کے اہل خانہ اور دوستوں کے نام شامل ہیں۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے تفتیش کے دوران لسانی اور گینگ وار تنازع میں 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا اور اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر 7 ایس ایچ اوز مختلف تھانوں میں تعینات کرائے جبکہ اقبال بھٹی کو لیاری میں ٹاؤن پولیس افیسر تعینات کروایا، اسی طرح 2019 میں محمد رئیسی کو ایڈمنسٹیٹر لیاری تعینات کروایا۔

عزیربلوچ کے بیرون ملک سےفرارکےباوجودماہانہ لاکھوں روپے بھتہ جمع کرکے دبئی بھیجا جاتا رہا، دوہزارآٹھ سے تیرہ کے دوران ہتھیارخریدے، پاکستان اوردبئی میں غیرقانونی اثاثے بنائے، گینگ وارمیں ملوث تھا جبکہ کراچی آپریشن میں اپنے استاد تاجو کو دبئی پھر افریقہ منتقل کرایا۔

مزید پڑھیں  : 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی، جےآئی ٹی رپورٹ

دوسری جانب سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سفارش کی ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ملوث کرداروں کو بیرون ملک سے لایا جائے اور ملزمان کے پاسپورٹ ضبط کرکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں