کراچی : حکومت سندھ کی جانب سے تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کی بندش سمیت ورک فرام ہوم کی پالیسی کے حوالے سے فیصلہ آج ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور کفایت شعاری مہم کے اعلان کے بعد، سندھ حکومت نے بھی صوبے میں اہم اقدامات اٹھانے کے لیے سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں تعلیمی اداروں کو بند رکھنے یا ان کے اوقاتِ کار تبدیل کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم سندھ اور محکمہ یونیورسٹی و بورڈز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات سے متعلق اپنی تجاویز فوری طور پر تیار کر کے اجلاس میں پیش کریں۔
اجلاس میں وفاقی پالیسی کی طرز پر سندھ کے سرکاری دفاتر میں بھی ‘ورک فرام ہوم’ (Work from Home) کی پالیسی اپنانے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ کن سرکاری دفاتر کو مکمل طور پر بند رکھا جائے اور کہاں عملے کی تعداد کم کر کے ایندھن کی بچت کی جائے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کل کا کابینہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
اجلاس میں نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ صوبائی سطح پر ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں کٹوتی کے حوالے سے بھی بڑے فیصلے متوقع ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


