The news is by your side.

Advertisement

کراچی ، پولیس کی موجودگی میں غیر قانونی جرگے کا انعقاد

کراچی: شہر قائد کے علاقے منگھوپیر سلطان آباد میں منشیات کے خلاف غیر قانونی جرگہ ہوا جس میں مقامی پولیس نے بھی شرکت کی اور ایس او پیز کو ہوا میں اڑا دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے منگھوپیر میں واقع سلطان آباد میں منشیات کے خلاف غیر قانونی جرگے کا انعقاد ہوا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

جرگے میں علاقائی عہدیداروں اور مقامی پولیس افسرانے بھی شرکت کی، شرکت کرنے والے تمام افراد نے کرونا کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایس او پیز کے احکامات کو ہوا میں اڑایا۔

اے آر وائی نیوز کو موصول ہونے والی رپورٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جرگے میں شرکت کرنے والے افراد نے سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا اور ماسوائے چند ایک کے کسی نے بھی ماسک نہیں پہنا تھا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر حکومت نے تمام قسم کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز پر خبر نشر ہوئی تو صوبائی حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی۔ وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت منگھوپیر واقعے پر ضرور ایکشن لے گی۔

دوسری جانب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رکن اسمبلی اور مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نصرت سحر عباسی نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوالات اٹھائے کہ اب سندھ حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ وزیراعلیٰ،مرتضیٰ وہاب اور سعیدغنی کہاں ہیں؟کیا یہ سندھ حکومت کی رٹ اور اقدامات ہیں؟۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھ حکومت کے وزرا روز پریس کانفرنس کرنے آجاتے ہیں اور سخت لاک ڈاؤن کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، وزیراعلیٰ ہروقت ہاتھ جوڑتےتھےاب وہ کہاں غائب ہیں‘۔

نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ ’میری نندکےشوہراس وقت بسترمرگ پر ہیں، انہیں اسپتالوں میں بیڈ نہیں مل رہا تو صوبے کے غریب شہریوں کا کیا حال ہوگا؟‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں