The news is by your side.

Advertisement

عدالت نے سندھ حکومت کو ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کیخلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نےصوبائی حکومت کوایس ایس پی ڈاکٹررضوان کےخلاف انکوائری سےروک دیا اور متعلقہ حکام سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کےمطابق سندھ ہائی کورٹ میں ایس ایس پی شکار پور ڈاکٹر رضوان کے خلاف انکوائری کے معاملے پر سماعت ہوئی ، سماعت میں عدالت نے استفسار کیا کیا ڈاکٹر رضوان کے خلاف انکوائری میں آئی جی سندھ کو اعتماد میں لیا گیا؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا وزیراعلیٰ سندھ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انکوائری کروا سکتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ وہ قانونی نکتہ بتائیں کہ وزیراعلی انکوائری کرا سکتےہیں؟ کیا آئی جی سندھ کے علم میں لایا گیا کہ انکوائری کرائی جارہی ہے، سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ہر انکوائری اسی طرح ہوتی ہے؟

عدالت نے کہا ہزاروں کیسز آتے ہیں کیا ہر کیس میں اسی طرح ہوتا ہے ؟ دیکھنا ہوگا وزیراعلیٰ ہر شکایت پر اسی طرح اقدام کرتے ہیں، پولیس کا سربراہ تو آئی جی سندھ ہوتا ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ میں کہا آئی جی سندھ کے علم میں کیوں نہیں لایا گیا، کیا نئے آئی جی کو بتایا گیا ڈاکٹر رضوان کیخلاف انکوائری ہورہی ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امتیاز شیخ کے خلاف خبریں چلیں تو انکوائری بیٹھا دی گئی، امتیاز شیخ کے جرائم پیشہ عناصر سے متعلق لیٹرپرسب کچھ ہوا، ڈاکٹر رضوان کی انکوائری کے پیچھے امتیاز شیخ ہی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں مداخلت پر سپریم کورٹ ،ہائیکورٹ فیصلے دےچکی، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا وزیراعلیٰ سندھ کے پاس انکوائری کا اختیار موجود ہے، وزیراعلیٰ سندھ کاڈاکٹر رضوان کیخلاف انکوائری کاحکم قانون کےمطابق ہے۔

وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد اختیار آئی جی سندھ ہی کو ہے، یہ اعلیٰ افسر کا ٹرائل کرنے کے مترادف ہے،آئی جی کے علم میں لائے بغیر، اس طرح تو حکومت کسی بھی پولیس افسر کے خلاف کارروائیاں کرتی رہے گی۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا انکوائری کہاں تک پہنچی تو سرکاری وکیل نے بتایا انکوائری جاری ہے اور معاملہ ایس ایم ڈی جی کو ارسال ہے، عدالت نے استفسار کیا ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ کہاں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر رضوان کے تبادلے پر ٹھیک جواب نہ دینے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا محکمہ داخلہ، پولیس کسی کو نہیں پتہ کہ کہاں تبادلہ کیا گیا، جس پر محکمہ داخلہ سندھ نے بتایا ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ سی پی او کیا گیا ہے۔

عدالت نے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے خلاف انکوائری پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ڈاکٹر رضوان کیخلاف کسی بھی کارروائی سےروک دیا اور کہا فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پرڈاکٹررضوان کیخلاف کارروائی نہ کی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے 17 مارچ تک انکوائری رپورٹ طلب کرلی اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان سے متعلق انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا انکوائری مکمل کرکے متعلقہ حکام کو بھیجی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سروسز جنرل اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ کو انکوائری رپورٹ پر فیصلےکی بھی ہدایت کی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں