The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ : کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت

کراچی : سندھ ہائی کورٹ میں کم عمری شادی سے متعلق کیس میں درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر عدالت نے مقدمے میں تین تفتیشی افسران کو کل طلب کرلیا۔

عدالت نے آئی جی سندھ کو5پولیس افسران کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی، جسٹس عمرسیال نے کہا کہ آئی جی سندھ کو خصوصی طور پر نوٹس کی تعمیل کرائی جائے۔

مقدمے کی سماعت کے موقع پر جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ سرکاری وکیل تمام پولیس افسران کی2جون کو عدالت میں حاضری یقینی بنائیں۔ پولیس افسران پیش نہ ہوئے تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق ملزم ارتضیٰ نے میری آٹھویں کلاس کی بیٹی سے زبردستی شادی کرلی ہے، جس کے جواب میں ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل ارتضیٰ نے انیلہ بتول سے پسند کی شادی کی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ 2013 کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکا شادی نہیں کر سکتے۔ مذکورہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی سزا 2 سال اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

اس کے علاوہ چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ کی خلاف ورزی میں معاونت کرنے والوں کو بھی دو سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں