The news is by your side.

Advertisement

کالعدم تنظیم کے لیے چندہ کرنے والا دو سال سے لاپتا ڈاکٹر مل گیا

سی ٹی ڈی نے گرفتاری ظاہر کردی، چیف جسٹس کا اظہار برہمی، ڈی آئی جی شرقی عدالت میں طلب

کراچی: دو سال سے لاپتا ڈاکٹر آخر کار مل گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم پر کالعدم تنظیم کے لیے چندہ جمع کرنے کا الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں کالعدم تنظیم کے لیے چندہ اکھٹا کرنے کے الزام میں دو سال سے لاپتا رہنے والے ڈاکٹر کی پولیس نے گرفتاری ظاہر کر دی ہے۔

لاپتا رہنے والے ڈاکٹر عبد الرحمان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو دسمبر 2016 میں گلشن اقبال سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتا نہیں چلا کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبد الرحمان کے والد نے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، والد کی درخواست پر عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاپتا شہری کی گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ڈاکٹر عبد الرحمان کی گرفتاری ظاہر کرنے پر عدالت نے ڈی آئی جی شرقی عبد اللہ شیخ کو کل وضاحت کے لیے عدالت طلب کر لیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی کے رو بہ رو سی ٹی ڈی کے افسر نے بیان دیا کہ گرفتار ملزم پر کالعدم تنظیم کے لیے چندہ جمع کرنے کا الزام ہے۔

عدالت کا لاپتا افراد کو 7 روز میں بازیاب کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے معاملے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ’کیسے ممکن ہے 2 سال سے لاپتا شخص ملے اور عدالت کو نہ بتایا جائے‘۔ تاہم سی ٹی ڈی کے افسر نے مؤقف ظاہر کیا کہ محکمے کو گم شدگی کی درخواست پر عدالتی کارروائی کا علم نہیں تھا۔

جسٹس احمد علی نے سی ٹی ڈی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ’تم لوگ نوکریاں بچانے کے لیے کیا کیا کام کرتے ہو، کیا ضمیر مر گیا ہے؟‘

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بھی محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے افسر کے ضمیر کو جھنجھوڑے ہوئے کہا ’اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوگا تو کوئی بولنے والا بھی نہ ہوگا، تب پتا چلے گا۔‘


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں