اب کسی نئے کیس میں ایان علی کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے، عدالت کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

اب کسی نئے کیس میں ایان علی کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے، عدالت کا حکم

کراچی  : ماڈل گرل ایان علی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت، سیکریٹری داخلہ اور فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق ایان علی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کی گئی، دوران سماعت ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ ’’ آپ کے احکامات کے باوجود ایان علی کا نام ای سی ایل سے خارج نہیں کیا گیا اور بیرون ملک روانگی کے وقت ائیرپورٹ سے واپس گھر بھیج دیا گیا‘‘۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سیکریٹری داخلہ اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ حکم جاری کیا ہے کہ ’’کسی اور کیس میں ایان علی کا نام ای سی ایل میں ہرگز شامل نہ کیا جائے‘‘۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایان علی کے نام کو ای سی ایل سے ہٹا دیا جائے اور اس معاملے کو 10 روز میں ہر صورت حل کیا جائے‘‘۔ مقدمے کی مزید سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کی جائے گی۔

مزید پڑھیں : وزارت داخلہ آئین کا مذاق اڑا رہی ہے، وکیل ایان علی

اس موقع پر ماڈل گرل کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ’’ آپ حکم جاری کریں کہ ایان علی کو  مقتول کسٹم انسپیکٹر اعجاز چوہدری کے کیس میں گرفتار نہ کیا جائے، کیونکہ جس وقت مقتول کو قتل کیا گیا میری موکلاجیل میں قید تھیں۔

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے حکم جاری کر کے ایان علی کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا تھا، مگر کراچی ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے ماڈل گرل کو بیرون ملک روانہ ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے نام خارج کرنے کے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے، جس کے بعد ماڈل گرل کو واپس روانہ کردیا گیا تھا۔

پڑھیں :   ایان علی کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے . اہلیہ مقتول انسپکٹر

دوسری جانب مقتول انسپیکٹر کی بیوہ صائمہ اعجاز نے ایان علی کے بیرون ملک روانگی کے خلاف راولپنڈی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’اُن کے شوہر کو ایان علی کو گرفتار کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

پڑھیں :     ماڈل گرل ایان علی کسٹم انسپکٹراعجازچوہدری کے قتل کیس میں نامزد

مقتول کی بیوہ نے درخواست میں لکھا ہے کہ ’’شوہر کے قتل کے بعد اعلیٰ شخصیات کی جانب سے دستبرادری کے لیے دباؤ ڈالا گیا جبکہ پولیس نے بھی تفتیش کے لئے تاحل کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا‘‘۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں