The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائیکورٹ کا حکم، مون گارڈن کے رہائشی سراپا احتجاج

کراچی : سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے بعدکراچی میں مون گارڈن کے رہائشیوں کے سرپر نہ چھت رہی اور نہ پیروں تلے زمین رہی۔

کراچی کا گنجان آباد علاقہ گلستانِ جوہر بلاک دس میں آٹھ منزلہ عمارت میں ایک سواسی فلیٹس اور ستر دکانوں کی تعمیر کی گئی، خریداروں کو راغب کرنے کے لئے کروڑوں روپے کے اشتہارات چلائے گئے، لوگوں نے خون پسینے کی کمائی سے فلیٹ کی قیمت چودہ سال تک بلڈرز کو اقساط کی صورت میں ادا کی، پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد مالکان نے عمارت میں سکونت اختیار کی.

اب ریلوے کو یاد آیا کہ اراضی محکمے کی ملکیت ہے اور مون گارڈن کی تعمیرات غیرقانونی ہیں.

محکمہ ریلوے نے سندھ ہائیکورٹ میں زمین واگزار کرانے کے لئے درخواست دائرکردی گئی، عدالت نے بھی عمارت خالی کرانے کا حکم دیدیا ہے، پولیس نے ستر فلیٹ فوری سیل کردیئے اور باقی رہائشیوں کو تین دن کی مہلت دی گئی۔

دوسری جانب مون گارڈن کے مکین بے دخلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے، درخوستگزاروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے تک مکینوں کو بے دخل نہ کرنے کی اپیل دائر کردی ہے.

رہائیشوں کا کہنا ہے کہ فلیٹ خریدنے سے پہلے تمام قانونی ضابطے پورے کئے، تعمیرات غیر قانونی تھیں تو جب پراجیکٹ بنایا جارہا تھا، اس وقت کیوں نہیں روکا گیا۔

مون گارڈ ن کےمکین کا کہنا ہے کہ انیس سواٹھانوےمیں فلیٹوں کی بکنگ کرائی تھی، زندگی بھر کی کمائی سے سر چھپانے کے لئے گھرخریدا، لاکھوں روپے خاک میں مل گئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں