The news is by your side.

Advertisement

سگ گزیدگی کے واقعات: افسران پر 50 ہزار ہرجانہ لگا دینا چاہیئے، عدالت برہم

کراچی: سگ گزیدگی کے واقعات اور آوارہ کتوں کی روک تھام سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو طلب کرلیا، عدالت نے افسران پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آوارہ کتوں کی روک تھام اور کتے کے کاٹے کی ویکیسن سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، سیکریٹری بلدیات سندھ عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ سگ گزیدگی کے واقعات بہت بڑھ چکے ہیں کوئی کنٹرول نہیں ہو رہا، ٹاسک فورس کو واقعات کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، بتائیں، آپ کے لوگ کر کیا رہے ہیں؟

سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ ویکسین کی فراہمی اور نس بندی سے متعلق منصوبے پر کام جاری ہے، جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ اس کا حل موجود ہے، جیسے ہی کسی کو کتا کاٹے، سرکاری افسران کی جیب سے 10 ہزار روپے جرمانہ لگا دیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو پرواہ ہی نہیں، واقعات رک ہی نہیں رہے، کنٹونمنٹ بورڈز اپنی حدود میں کیا کر رہے ہیں؟ جس پر وکیل کنٹونمنٹ بورڈ نے کہا کہ بورڈز نے کام شروع کردیا ہے۔

جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ افسران پر 50 ہزار ہرجانہ لگا دیں پھر دیکھیں کیسے کام ہوتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کہاں ہیں اور وہ کیوں نہیں آئے؟ کیا ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو توہین عدالت کے نوٹس بھیجیں؟ یا شوکاز نوٹس جاری کریں؟

انہوں نے کہا کہ واقعات نہ رکنے پر ڈی ایم سیز اور کے ایم سیز حکام کے خلاف فیصلہ جاری کر دیتے ہیں۔

سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ ویکسین قانون کے بائی لاز بنا دیے گئے، وزیر اعلیٰ نے منظوری دے دی ہے، آئندہ کابینہ اجلاس میں ڈرافٹ پیش ہوجائے گا، پروجیکٹ کے ٹینڈرز جاری کردیے گئے ہیں۔

اینٹی ریبیز کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ پروگرام کے باقی امور بھی حتمی مراحل میں ہیں۔ عدالت نے اینٹی ریبیز کنٹرول پروگرام کے مراحل کو 10 دن میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔

ڈائریکٹر نے کہا کہ 60 گاڑیوں کی ضرورت ہے جو کتے پکڑنے کے لیے استعمال ہوں گی، کابینہ نے ان گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔

جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ فنڈز کھانے آتے ہیں، کتا پکڑا اور مارا نہیں جاتا، گاؤں میں کتا کاٹے تو کہیں ڈاکٹر نہیں کہیں ویکیسن نہیں، حیدر آباد تک پہنچتے پہنچتے بچہ مر جاتا ہے۔ ڈی ایم سیز میں 350 ملازمین ہیں کیا کرتے ہیں؟ کبھی سنا ہے ڈی ایم سیز میں 350 ملازمین؟

عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایڈمنسٹریٹر پیش ہوں اور بتائیں فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا۔

عدالت نے سیکریٹری بلدیات کو بھی سگ گزیدگی کے واقعات روکنے کا حکم دیا اور انہیں ذاتی حیثیت میں معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے تمام ڈی ایم سیز کو ہفتہ وار رپورٹس جمع کروانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈز حکام کو بھی واقعات روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفنس کے رہائشی کتوں کے کاٹنے سے بہت زیادہ پریشان ہیں، پارکوں میں بزرگ شہری واک تک نہیں کر پاتے۔ واقعات کو کم کریں یہی پیش رفت اور اچھی کارکردگی کا پیمانہ ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 جون تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں