جب بابر نے 1507ء میں کابل میں اپنی حکومت قائم کی اور قندھار کو فتح کیا تو اس نے قندھار کے حکمراں شاہ بیگ ارغون کو سندھ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ شاہ بیگ ارغون نے 1520ء میں سندھ میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ 1521ء میں اس نے وفات پائی۔ اس کے بعد اس کا جاں نشیں شاہ حسن سندھ کا حکم راں بن گیا۔
1555 میں شاہ حسن کی وفات کے بعد سندھ میں مغل سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ جلال الدین محمد اکبر نے تخت نشینی کے بعد بڑی ہی فہم و فراست اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ سے مغل سلطنت کو بہتر طریقے سے سنبھالا۔ پوری مغل تاریخ میں اکبر جیسا قابل حکمراں نہیں گزرا۔ ہندوستان بھر میں چھوٹی چھوٹی آزاد اور خودمختار ریاستیں جو مغل سلطنت کے اردگرد موجود تھیں، اکبر نے ایک ایک کر کے ان کو بھی فتح کرلیا تھا۔ اس طرح مالی طور پر مغل سلطنت اور رعایا بہت خوش حال تھی۔ اکبر نے نئی ریاستوں کی فتح کے بعد وہاں مغل صوبیدار مقرر کرنے کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں منصب داری نظام حکومت کو 1575ء میں شروع کیا، جس سے فوجی اور انتظامی لحاظ سے سلطنت کا انتظام مضبوط اور بہتر ہوا، پھر 1580ء میں اکبر نے ان میں مزید اصلاحات کیں۔ اس نے صوبائی نظام اس طرح سے قائم کیا کہ حکومت کا نظام بہتر طریقے سے رواں دواں رہے۔ مغلوں نے سندھ پر 1591ء سے اقتدار حاصل کیا۔ ان کا یہ اقتدار 1738ء تک قائم رہا۔ سندھ میں مغلوں نے 147 سال تک حکومت کی۔ مغل دور میں سندھ کی سرکاری اور دفتری زبان فارسی تھی۔ ابتداء میں سندھ میں مغلوں کا اقتدار ترخان حکم رانوں کی موروثی جاگیر میں رہا لیکن 1612ء میں مغل سلطنت کا حصہ بن گیا اور 1738ء تک یہاں مغل صوبیدار آتے رہے۔ صوبیدار کا تقرر صوبوں کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا تھا۔ کتاب ’’تحفتہ الکرام‘‘ کے مصنف میر علی شیر قانع کے مطابق مغل صوبے داروں کی تعداد چالیس بتائی ہے۔ بہت سے صوبیدار ایک سے زیادہ مرتبہ بھی سندھ میں تعینات رہے۔ مشہور محقق ، پیر حسام الدین راشدی کے مطابق ان کی تعداد 64 تک بتائی گئی ہے۔
سندھ کے چند صوبیداروں کے نام یہ ہیں۔ مرزا رستم صفوی، مرید خان، عطر خان، نواب اعظم خان، نواب دلبر خان اور نواب صادق خان وغیرہ وغیرہ۔ سندھ کے بہت سے صوبیداروں کو علم و ادب سے گہری دل چسپی رہی ہے۔ ان میں مہابت خان، سیف اللہ خان، دلبر دل خان، میر لطف علی خان، حفیظ اللہ خان، ابو نصرت خان اور امیر الدین خان شامل ہیں۔
(محمد باسط اللہ بیگ کے تحقیقی مضمون سے اقتباسات)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


