The news is by your side.

بلدیاتی انتخابات: سندھ میں جھگڑے، فائرنگ، پولنگ میں رکاوٹیں

لاڑکانہ: صوبہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ووٹنگ کا عمل جاری ہے، تاہم مختلف علاقوں میں پولنگ کے دوران لڑائی جھگڑے، فائرنگ اور ناقص انتظامات کے باعث ووٹنگ میں تاخیر، اور دیگر انتخابی بے ضابطگیاں سامنے آ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران لڑائی جھگڑے، فائرنگ، اور پولنگ میں رکاوٹیں عروج پر ہیں، 14 اضلاع میں پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی، تاہم کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل روکنا پڑ گیا۔

کندھ کوٹ میں وارڈ نمبر 10 کے پولنگ اسٹیشن میں پی پی اور جے یو آئی کارکنوں میں جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر ڈنڈے برسائے، جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے، بعد ازاں پولنگ روک دی گئی۔

خیرپور میں کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 6 کے پولنگ اسٹیشن پر پی پی اور جی ڈی اے کارکنان میں کشیدگی پیدا ہو گئی، جس کے بعد فریقین میں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ہوا جس پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا، واضح رہے کہ کوٹ ڈیجی انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنوں میں شامل تھا۔

بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے کتنے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے؟

جیکب آباد میں یوسی شیراں کے پولنگ اسٹیشن نمبر 208 اور 209 پر کشیدگی ہوئی، جس کے باعث پولنگ اسٹیشز پر ووٹنگ بند کرا دی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ آزاد امیدوار محمد شعبان کے حامیوں کے اعتراضات پر پولنگ بند کی گئی۔ بعد ازاں پولیس نے پولنگ اسٹیشن جلال پور میں کشیدگی پر قابو پا لیا اور ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا۔

ادھر نوشہروفیروز میں پرانا جتوئی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے کارکنان کی وین پر فائرنگ کی گئی جس سے گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا، کارکنان پرانا جتوئی سے نیو جتوئی پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے آ رہے تھے، جی ڈی اے کارکنان کا دعویٰ تھا کہ ان پر پیپلز پارٹی کے غنڈوں نے حملہ کیا۔

نوشہروفیروز میں یو سی چاہین سلیمان پولنگ اسٹیشن پر جھگڑا ہوا، اور پولنگ عملے کو یرغمال بنایا گیا، عملے کے کپڑے بھی پھاڑے گئے، جھگڑے میں 5 افراد زخمی ہوئے، رپورٹ کے مطابق ووٹنگ لسٹ میں نام شامل نہ ہونے پر پی پی اور آزاد امیدواروں کے حامیوں میں جھگڑا ہوا، جس پر انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کر لیا، رکن ڈسٹرکٹ کونسل ظفر راجپر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی غلطیوں کے باعث جھگڑے ہو رہے ہیں۔

گھوٹکی میں یونین کونسل ڈانگرو اور علی مہر میں بھی پی پی اور جی ڈے اے کارکنان میں جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران 15 افراد زخمی ہوئے، تاہم بعد ازاں صورت حال پر قابو پا لیا گیا اور رکی ہوئی پولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔

سانگھڑ میں پولنگ اسٹیشن نمبر 62 پر جھگڑے کے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے، جس پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، اور پولنگ کا عمل بند کر دیا گیا۔

تھرپارکر میں اسلام کوٹ کی یو سی سینگارو کے آزاد امیدوار لجپت کے ایجنٹوں پر اغوا کے بعد تشدد کیا گیا، چیف ایجنٹ سومجی نے الزام لگایا کہ انھیں وڈیرے نبی بخش کے کہنے پر گھر سے اغوا کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور ڈیڑھ لاکھ روپے بھی لوٹ لیے گئے۔

دیگر بے قاعدگیاں

دوسری طرف نوشہروفیروز میں بھریاسٹی کی مختلف یونین کونسلز میں تاحال پولنگ شروع نہ ہو سکی، چاہین سلیمان، وڈل کیرو میں پولنگ کا آغاز نہ ہو سکا، پریزائیڈنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ خواتین ووٹرز کی لسٹ نا مکمل ہے، اور رجسٹر ووٹرز کی لسٹ بھی کلیئر نہیں ہے۔

خیرپور میں:وارڈ 16 پولنگ اسٹیشن نمبر 33 پر بیلٹ پیپر سیریل نمبر نہ مل سکا، سیریل نمبرز مسنگ ہونے کے باعث پولنگ ایجنٹس نے پولنگ شروع نہیں ہونے دی، اور شدیدگرمی میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز کی قطار لگ گئی۔

نواب شاہ میں ٹاؤن کمیٹی ایچ ایم خوجہ، یو سی 8 کے ٹی ایل پی امیدوار کا بیلٹ پیپر پر نام اور انتخابی نشان نہیں تھا، امیدوار کی جانب سے شکایات کی گئیں لیکن سنوائی نہیں ہوئی۔ یو سی 6 وارڈ 1 نادر شاہ ڈسپنسری پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل بند کیا گیا، تحریک لبیک کے امیدوار کا نشان بھی تبدیل کیا گیا، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے کرین کے نشان کی بجائے کوئن کا نشان الاٹ کیا گیا، جس پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کو بند کرا دیا۔

نوشہروفیروز میں انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، ضلع کے اکثر انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے خراب نکلے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں