The news is by your side.

Advertisement

سندھ: اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر قبضہ میں‌ ملوث سرکاری افسر کو انوکھی سزا

کراچی: ملیر ڈیولیپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی ہزاروں ایکڑ زمین کو ٹھکانے لگانے والے افسر کا نام سامنے آنے کے بعد محکمہ بلدیات نے انوکھا قدم اٹھا کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی سرکاری اراضی مبینہ جعلسازی سے ٹھکانے لگانے کے الزامات پر محکمہ بلدیات سندھ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج رکھنے والے عبدالناصر خان کو بدعنوانی اور قبضہ مافیا کی سہولت کاری کے الزام میں اضافی عہدے سے برطرف کردیا۔

اے آر وائی کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق ناصر خان اور دیگر افسروں پر ایم ڈی اے کی 802 ایکڑ زمین پر قبضے کی سہولت کاری کا الزام تھا، تحقیقات کے دوران کچھ شواہد ایسے بھی ملے جن میں اُن کا نام بھی سامنے آیا۔

محکمہ بلدیات کے اعلی حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد عہدے سے برطرفی کا ایکشن لیا گیا جبکہ عبدالناصر خان کے پاس ڈائریکٹر فنانس اور ڈائریکٹر لینڈ کا عہدہ برقرار  ہے۔ ایم ڈی اے افسران کا کہنا ہے کہ ناصر خان جیسے بااثر افسر کو شواہد کے باوجود بھی بچایا جارہا ہے اور اُن سے اضافی عہدہ واپس لیا گیا۔

سیکریٹری بلدیات سندھ نجم شاہ نے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے عبدالناصر خان سے ایڈیشنل ڈی جی کا اضافی چارج فوری واپس لینے کی احکامات جاری کیے اور اس عہدے پر اچھی شہرت کے حامل سینئر افسر کو تعینات کرنے کا حکم دیا۔

محکمہ بلدیات کے ذرائع نے بتایا کہ  ملزم نے گزشتہ چار ماہ کے دوران اربوں کی سرکاری اراضی پر سہولت کاری کے ذریعے مافیا کا قبضہ کرایا، تحقیقات میں زمینوں پر قبضے اور سہولت کاری کے شواہد سامنے آنے کے باوجود کیس اینٹی کرپشن یا نیب نہیں بھیجا گیا۔

غیر قانونی طریقے سے ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کے خلاف ایکشن

دوسری جانب محکمہ سندھ بلدیاتی گورنمنٹ بورڈ نے غیر قانونی طریقے سے ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے تینوں کو معطل کردیا۔

ذرائع کے مطابق ضلع غربی ، شرقی اور وسطی کے ڈائریکٹر ایجوکیشنز کو عہدوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ تینوں افسران پر مشکوک سروس ریکارڈ اور غیر قانونی طریقے سے آؤٹ اف ٹرن ترقیاں حاصل کرنے کا الزام تھا۔

محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ نے الزام کی بنیاد پر افسران کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردیں، تینوں افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ کونسلز سے محکمہ لوکل گورنمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں