کراچی : سندھ پولیس نے قائمہ کمیٹی میں انمول پنکی کی لاہور سے گرفتاری کا اعتراف کرلیا، جس پر سوال اٹھایا گیا کہ پنکی کولاہور سے پکڑا گیا تو ہر جگہ سندھ کا نام کیوں بدنام کیا گیا؟
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کا احوال سامنے آگیا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما فریال تالپور، نبیل گبول، قادر پٹیل اور صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء لنجار سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
ذرائع ک نے بتایا کہ اجلاس کے دوران سندھ پولیس نے قائمہ کمیٹی میں انمول پنکی کی لاہور سے گرفتاری کا اعتراف کرلیا۔
جس پر ایم این اے آغا رفیع اللہ برہم ہو گئے اور سوال اٹھایا کہ "جب پنکی کو لاہور سے پکڑا گیا تو ہر جگہ سندھ کا نام کیوں بدنام کیا گیا؟”
اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب قادر پٹیل نے پان گٹکے پر پابندی کے قانون کو چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ملک سے ایک ارب روپے کی نسوار ایکسپورٹ کی گئی ہے، تو پھر پان اور گٹکے پر پابندی کیوں ہے؟”
اس پر وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے جواب دیا کہ ملکی قانون میں جھول موجود ہے، جبکہ ماوا گٹکا اور نسوار کے نقصانات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔
منشیات کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے نبیل گبول نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا اور الزام عائد کیا کہ ماوا گٹکے اور منشیات کے خلاف صرف لیاری اور غریبوں کے علاقوں میں کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا، "میں فہرست دے سکتا ہوں کہ کون سا بیٹر (پولیس کا کارندہ) کس طرح پولیس کے ذریعے منشیات سپلائی کرواتا ہے۔”
اس موقع پر فریال تالپور نے نبیل گبول کو فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی اور پولیس کو حکم دیا کہ وہ اس فہرست کی روشنی میں منشیات کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائے۔


