The news is by your side.

Advertisement

سال 2016: سندھ میں 1896 پولیس مقابلے‘ 10876 ملزمان گرفتار

کراچی: سینٹرل پولیس آفس کراچی میں آئی جی سندھ نے سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک اجلاس کی صدارت کے دوران سال 2016 میں پولیس کی آپریشنل، انویسٹی گیشن کارکردگی سمیت اسٹیبلشمنٹ اور ویلفیئر برانچوں کی مجموعی کارکردگی / محکمانہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور ضروری احکامات جاری کیے گئے۔

آئی جی سندھ نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ سال 2017 کے دوران آنیوالے مختلف اہم ایونٹس کے حوالے سے جامع اور مربوط اقدامات پر مشتمل سیکیورٹی / پولیسنگ پلان فوری طور پر مرتب کرکے برائے ملاحظہ ومناسب اقدامات ارسال کیا جائے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت بالخصوص جرائم کے خلاف پولیس حکمت عملی اور لائحہ عمل کو مزید مؤثر اور فول پروف بنایا جائے تاکہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کو ہر سطح پر غیرمعمولی بنایا جاسکے۔

police-post-1

اس موقع پر اے آئی جی آپریشنز سندھ نے سندھ پولیس کی کارکردگی پر مشتمل سال 2015 اور 2016 موازنہ رپورٹ کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشنل اور انویسٹی گیشن پولیس کی جرائم کے خلاف مؤثر اور مربوط اقدامات کی بدولت سندھ بھر میں سال 2015 کے مقابلے میں سال 2016 میں سنگین جرائم بشمول قتل کے واقعات میں 605 ,اقدام قتل میں 322، ٹارگٹ کلنگ میں 114، پولیس پر حملوں کے واقعات میں 1291 جبکہ بھتہ پرچیوں، ڈکیتی میں باالترتیب 68،اور 169 کے لحاظ سے کمی آئی اسی طرح دیگر نوعیت کی مختلف وارداتوں میں بھی نمایاں حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سال 2016 کے دوران مورخہ 30دسمبر تک کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف تھانوں کی حدود میں جرائم پیشہ/ دہشت گرد / ڈاکوؤں سے مجموعی طور پر 1896 پولیس مقابلے ہںوئے جس کے نتیجے میں 10876 ملزمان / ڈکیت / دہشت گرد گرفتار جبکہ 96 دہشت گردوں، 11 اغواء کاروں، سمیت مجموعی طور پر 248 جرائم پیشہ ہلاک ہںوئے اسی طرح گرفتار ملزمان میں 424 دہشت گرد، 28 اغواء کار اور رنگے ہاتھوں گرفتار کیئے جانیوالے 2116 جرائم پیشہ بھی ہیں جوکہ مذکورہ مجموعی گرفتار ملزمان کی تعداد میں شامل ہیں۔

police-post-2

آئی جی سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہلاک اور گرفتار ملزمان ودیگرسے 12 اینٹی ایئر کرافٹ گنز، تین عدد12.7 گنز، دو عدد ایم ون سکس رائفلز، 87 ایل ایم جیز، 23 جی تھری، چار عدد ایم پی فائیو، 389 ایس ایم جیز / کلاشنکوف، 862 شاٹ گنز / ریپیٹرز، 312 رائفلیں، 7413 پستول / ریوالورز / ماؤزرز، 48 خودکش جیکٹس، 28 لائیو بم، ایک عدد آئی ای ڈی، 10 راکٹ لانچرز، 28 راکٹ، 1593 ہینڈ گرنیڈ اور 105 ار پی جے سیون / ار پی جے راکٹ سمیت پانچ عدد اسنائپر رائفلز، 17 گرنیڈ لانچر اور 263 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ ‫

انہوں نے بتایا کہ سال 2016 میں سندھ پولیس کے 41 افسران اور جوان شہید ہوئے جبکہ سال 2015 میں 90 پولیس افسران اور جوان شہید ہوئے تھے۔

اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ سال 2016 میں سن کوٹہ اور شہید کوٹہ کے تحت پولیس کے 820 حقیقی اور قانونی ورثاء کو سندھ پولیس میں ملازمت دی گئی ‫۔ 280 ڈی ایس پیز اور 867 سب انسپکٹرز کو اگلے عہدوں پر ترقیاں دی گئیں۔

police-post-3

پولیس کی تمام رینج میں 10000 سے زائد امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر سندھ پولیس میں ریکروٹمنٹ دیئے جانے کے عمل کو مکمل کیا گیا جبکہ 7000 مزید امیدواروں کو بھی سندھ پولیس میں ریکروٹمنٹ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور جلد ہی انہیں تقررنامے جاری کردیئے جائیں گے علاوہ اذیں ایس پی یو میں 1100آرمی کے ریٹائرڈ جوانوں کو بھی ریکروٹمنٹ دے دی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی میں 500 اے ایس آئییز اور 1000کانسٹیبلز کی بھرتی کے عمل کا آغاز کیا گیا ۔ آر آر ایف کی افرادی قوت میں 500 کا اضافہ کرنے کے ضمن میں ریکروٹمنٹ بھی زِیر غور ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت اے ایس آئیز کے عہدے پر 935 اہل افراد کی ریکروٹمنٹ کے عمل پر جلد ہی عمل درآمد کردیا جائیگا۔ 170 انسپکٹرزاور 200انسپکٹرز انوسٹی گیشن کی پوسٹ کے لیئے لاء گریجوئیٹ کو ریکروٹمنٹ دینے کے حوالے سے ایس پی ایس سی نے اشتہار دیا۔

police-post-4

سندھ پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیڈر تشکیل دیا گیا جوکہ 2500 مختلف آئی ٹی پروفیشنلز کے رینک کی افرادی قوت پر مشتمل ہںوگا ِ آئی ٹی کیڈر منظور شدہ ہے اور جلد ہی تقرریوں کا آغاز کردیا جائیگا۔

انہوں نےبتایا کہ شعبہ تفتیش کے تمام تر امور کو مؤثر اور کامیاب بنانیکے لیئے قتل، گینگ ریپ، بم دھماکوں، خودکش حملوں، قانون نافذ کرنیوالوں کی ٹارگٹ کلنگز، سماج دشمن عناصر، اغواء برائے تاوان، بھتہ اور بینک ڈکیتی کے مقدمات کی تفتیش پر اٹھنے والے اخراجات کی رقوم میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں