کراچی (14 فروری 2026): آڈیٹر جنرل کی تازہ رپورٹ میں یہ نشان دہی ہوئی ہے کہ صوبہ سندھ کے 8 پبلک سیکٹر ادارے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کروانے سے گریز کر رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی سندھ کے پبلک سیکٹر اداروں پر آڈٹ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند اداروں میں مالی نظم و ضبط اور اندرونی کنٹرولز میں کمزوریاں پائی گئی ہیں، اور 8 پبلک سیکٹر انٹرپرائزز نے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع نہیں کروائے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 3 کیسز میں غیر قانونی تقرریوں میں 26 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی کی نشان دہی کی گئی ہے، خریداری کے 3 کیسز میں ایک ارب 18 کروڑ روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی، اور واجبات کی عدم وصولی کے 4 کیسز میں 4 ارب 65 کروڑ روپے کی رقم بقایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی اداروں کی جانب سے اخراجات اور وصولیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، آڈٹ رپورٹ میں شفاف تقرریوں اور قواعد کے مطابق خریداری یقینی بنانے کی سفارش کی گئی اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں شفافیت اور احتساب بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔


