site
stats
پاکستان

ایم کیوایم لندن کا ہلاک قراردیا گیا کارکن میڈیا کے سامنے پیش

MQM London

کراچی: رینجرز نے ایم کیو ایم لندن کی جانب سے ہلاک قرار دیے جانے والے کارکن کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا‘ یوسف عرف ٹھیلے والا کا کہنا تھا کہ جان بچانے کے لیے روپوش ہوا۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز جمعرات ترجمان رینجرز میجر قمبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ محمد یوسف نامی ایم کیو ایم لندن کا کارکن جس کے لیے ندیم نصرت نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قتل کردیا ہے‘ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اسے میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا گیا۔

اورنگی ٹاؤن میں رینجرز چھاپے کے دوران فرار ہونے والے محمد یوسف عرف ٹھیلے والا نامی ایم کیو ایم لندن کے کارکن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ایم کیوایم لندن کی جانب سے قتل کاخوف تھا اس لیے خود کورینجرز کے حوالے کیا‘‘۔

کارکن کا کہنا تھاکہ’’ پچھلےمہینے وہ جہاں کام کرتاتھاوہاں رینجرزنےچھاپہ مارا‘ میں نےبھاگ کرسرجانی میں روپوشی اختیارکی لیکن08 اگست کو ندیم نصرت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں مجھے ہلاک قرار دے دیا گیا‘‘۔

محمد یوسف نے کہا کہ’’ ایم کیوایم لندن کابیان آنےکےبعد میں خوفزدہ ہوگیا کہ اب مجھے ہر صورت قتل کردیا جائے گا ‘ لہذا میں بھاگ کر میر پور خاص چلا گیا تاہم قتل کیے جانے کا خوف اور بچوں کی یاد کے سبب میں نے خود کو قانون کے حوالے کیا‘‘۔

میجر قمبر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم لندن کا وطیرہ رہا ہےکہ وہ اپنے کارکنان کو خود لاپتہ یا قتل کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ان کے قتل کا الزام عائد کرتی رہی ہے‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد یوسف کے گھروالوں نے اس کا سوئم بھی کرلیا لیکن وہ زندہ ہے۔

یاد رہے کہ 08 اگست کو ایم کیو ایم لندن کے رہنما ٔ ندیم نصرت نے اپنے ٹویٹر پیغام میں محمد یوسف کی تصویر کے ساتھ ایک مسخ شدہ لاش کی تصویر ٹویٹ کی تھی اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ’’ ان کی جماعت کے کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے‘‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top