اسلام آباد (11 دسمبر 2025): سندھ سولر منصوبے میں مبینہ گھپلے سامنے آئے ہیں اور سولر سے مستفید افراد کی فہرست غلط نکلی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن کے اجلاس میں سندھ سولر منصوبے پر بریفنگ کے دوران اس منصوبے میں مبینہ کرپشن کے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ سولر منصوبے کے مستفید افراد کی فہرست غلط ثابت ہوئی ہے۔ لاڑکانہ میں 21 ہزار خاندان ہونے چاہیے تھے۔ تاہم وہاں صرف 4 ہزار خاندان ہی درج ہو سکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک گھر کو 10 سولر جب کہ ساتھ والے گھر کو ایک بھی نہیں ملا۔ اس منصوبے کے لیے 18 ہزار کی کِٹ 60 ہزار میں لی جا رہی ہے۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سولر کا سامان بیرون ملک سے برآمد ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ ایف بی آر کے مطابق یہ سامان بیرون ملک سے منگوایا ہی نہیں گیا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ افسران کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسران جان بوجھ کر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آتے۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو آئندہ اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


