اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

سندھ کے اساتذہ کا اپنے مطالبات کے لیے سندھ سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : سندھ کے اساتذہ نے اپنے مطالبات کے لیے سندھ سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا دے دیا اور 12 فروری کو بلاول ہاوس پر احتجاج کا اعلان کیا۔

تفصیلات کے مطابق پروفیسر لیکچرار ایسوسی سندھ نے صوبائی حکومت کی جانب پانچ درجاتی فارمولہ منظور نہ کرنے اور اساتذہ کی ترقیوں کو التوا میں ڈالنے کےخلاف سندھ سیکریٹریٹ پر احتجاجی دھرنا دیا۔

اس موقع پر سپلا کے مرکزی صدر منور احمد عباس نے 12فروری کو بلاول ہاوس پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر محکمہ تعلیم کی کوئی توجہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالجز کی بدحالی اساتذہ کی ترقیوں کے التواء کے خلاف دھرنا دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے مرکزی صدر سپلا منور عباس نے کہا تھا کہ سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں کالج اساتذہ کو فائیوٹیئر دینے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کالجز کھنڈر بن چکے ہیں، مطالبات کے حق میں کراچی کے اساتذہ 2 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے علامتی دھرنا دیا جائے گا اور اگر مسائل نہ حل ہوئے تو سندھ بھر کے کالج اساتذہ 12 فروری کو بلاول ہاؤس دھرنا دیں گے۔

منور عباس نے مزید کہا تھا کہ ہزاروں خالی اسامیوں پر لیکچررز کی ڈی پی سی، بورڈ ون اور بورڈ ٹو کا انعقاد نہ ہونے سے کالج اساتذہ مایوس ہے جبکہ کالجز میں سویپر، چوکیدار، چپڑاسی کی ہزاروں سیٹیں خالی، کالجز سے چوریاں معمول بن چکا اور کالجز کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگے۔

سپلا نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اپنے قیام سے ابتک انٹرمیڈیٹ کی کمپیوٹر سائنس اور کامرس کی کتابیں شایع نہیں کرسکا جبکہ سندھ کے آدھی سے زائد کالجز کالج پرنسپلز میں مستقل پرنسپل نہیں، 2008 سے ہاؤس رینٹ، کنوینس اور میڈیکل الاؤنسز کو منجمد کیا ہوا ہے، جس میں مہنگائی کی شرح سے اضافہ کیا جائے۔

+ posts

انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

اہم ترین

انور خان
انور خان
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں