site
stats
پاکستان

تیز رفتار یونیورسٹی بس کی زد میں آ کر طالبہ جاں بحق

حیدر آباد: صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں طالبہ سندھ یونیورسٹی کی بس کی زد میں آ کر شدید زخمی اور بعد ازاں جاں بحق ہوگئی۔ یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ نے بس کو گھیر کر احتجاج اور نیشنل ہائی وے کی جانب مارچ کیا۔

تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میں سندھ یونیورسٹی کے تیز رفتار پوائنٹ کی زد میں آ کر ایک طالبہ زخمی ہو گئی جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

حادثے کی اطلاع پہنچتے ہی یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات سڑکوں پر نکل آئے اور انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ احتجاج میں شامل طلبہ کا کہنا تھا کہ بس کے نیچے طالبہ کے آنے کے بعد بھی ڈرائیور نے بس نہیں روکی۔

طلبہ نے اسپتال میں ہنگامہ آرائی کی جبکہ کچھ طلبا نے احتجاجاً سپر ہائی وے بلاک کر دیا جس سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ بعد ازاں انہوں نے نیشنل ہائی وے کی جانب مارچ کیا۔ جاں بحق طالبہ کے اہل خانہ اور طلبا نے انڈس ہائی وے پر لاش رکھ کر بھی احتجاج کیا۔

بعد ازاں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر احتجاجی طلبا سے مذاکرات کے لیے پہنچے۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ طالبہ کے قتل کا انصاف ہوگا اور ٹرانسپورٹ کے معاملات میں تبدیلی لائی جائے گی۔

وائس چانسلر کی یقین دہانی پر طلبہ نے احتجاج ختم کرتے ہو ئے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ نظام کو فوری طور پر درست کیا جائے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر تیز رفتار بس بے قابو ہوگئی اور بس اسٹاپ پر کھڑے افراد کو کچلتی چلی گئی۔ حادثے میں وفاقی جامعہ اردو کی 3 ہونہار طالبات سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس سے قبل یونیورسٹی ہی کے قریب ایک اور ٹریفک حادثے میں طالبہ ہنزہ خان شدید زخمی ہو کر 2 ہفتہ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسی تھیں۔ دونوں واقعات کے خلاف طلبا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو بلاک کردیا تھا اور وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top