site
stats
پاکستان

پولیس نے نائلہ رند کی موت خودکشی قراردے دی

حیدرآباد: پولیس نے سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ایوارڈ یافتہ طالبہ نائلہ رند کی موت کو خود کشی قرار دے دیا۔


تفصیلات کے مطابق سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کمرے سے طالبہ نائلہ کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا، پولیس کے مطابق نائلہ رند کے موبائل ریکارڈ سے شواہد ملے، جس سے سابقہ طالبعلم کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار نوجوان انیس خاصخیلی ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے طالبہ نائلہ کو مبینہ طور پر بلیک میل کرتا تھا، انیس خاصخیلی یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی تیس سے زائد لڑکیوں کو بلیک میل کررہا تھا، اس سے ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق طالبہ نائلہ کے موبائل فون ریکارڈ کے مطابق خودکشی سے قبل چوبیس منٹ تک انیس خاصخیلی سے بات کی، تمام شواہد اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ نائلہ نے ذہنی دباؤ میں آکر خود کشی کی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملی تھی، جس کی نائلہ کے نام سے شناخت ہوئی تھی ، نائلہ شعبہ سندھی کی پوزیشن ہولڈر طالبہ تھی۔


مزید پڑھیں‌: سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ہاسٹل سے طالبہ کی لاش برآمد


پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے لگتا ہے کہ لڑکی نے خود کشی کی ہے۔

ایس ایچ اوجامشورو طاہر مغل نے نائلہ کے موبائل فون کو تحویل میں لے لیا، ان کے مطابق نائلہ کے قریبی دوستوں سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top