site
stats
سندھ

کراچی، پینے کے پانی میں انسانی فضلے کی آمیزش کا انکشاف

کراچی: سندھ واٹر کمیشن کی سماعت کے موقع پر انکشاف ہوا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں سپلائی ہونے والے پانی میں انسانی فضلہ اور دیگر مضر صحت جراثیم پائے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ کے حکم پر قائم عدالتی سندھ واٹر کمیشن کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں ہوئی جہاں ٹاسک فورس کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ کراچی سمیت سندھ کے بڑوں شہروں میں پانی کا صاف پانی نایاب ہے جب کہ پانی میں انسانی فضلے کی آمیزش سمیت خطرناک جراثیم کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے ایم ڈی واٹر بورڈ سید ہاشم رضا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال پر سخت تشویش ہے کیا آپ اس کا کوئی جواب دینا چاہیں گے؟


اسی سے متعلق :  سندھ واٹر کمیشن،راؤ انوار اور ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش 


جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ شہر کو صاف ستھرا اور حفظان صحت کے مطابق پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے تاہم کہیں کہیں مسائل کا بھی شکار ہیں چنانچہ اس وقت 19 مقامات پر سیوریج کی لائنیں پانی کی لائنوں سے مل گئی ہیں جس پر کام جاری ہے جب کہ فلیٹس اور گھروں کے ٹینکوں کی عرصے دراز تک صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کے نمونوں کے نتائج منفی آئیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سندھ واٹر کمیشن میں جمع کرائی گئیں رپورٹ میں کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی میں انسانی فضلہ شامل ہونے کا لرزہ خیز انکشاف ہوا جس کے تحت شہرقائد میں پانی کے 33 فیصد نمونوں میں سیوریج کا پانی شامل ہے اور90 فیصد پانی پینے کیلیے نقصان دہ ہے۔

ٹاسک فورس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ کے 14 اضلاع کے 71 اسپتالوں میں بھی پانی کے نمونے ٹیسٹ کیےگئے اور 88 فیصد نمونے مضر صحت ثابت ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 30 فیصد ، میرپورخاص میں 28 فیصد، ٹنڈو الہ یار میں 23، بدین میں 33، جامشورو میں 36، ٹنڈو محمد خان میں 30، حیدر آباد میں 42، لاڑکانہ میں 60 فیصد پانی کے نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا ہے اسی طرح پانی میں ای کولائی نامی جراثیم بھی موجود ہے جو کہ فضلے میں پایا جاتا ہے اور پیٹ کی بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔

اس موقع پر واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن نے واٹر کمیشن کے سامنے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کراچی میں ڈیڑھ سو سے زائد غیر قانونی ہائیڈرنٹس کام کر رہے ہیں جن میں حفظان صحت کے معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس پرعدالتی کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا تو انہوں نے واٹر بورڈ کے کچھ ملازمین کا غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے قیام میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا جس کے بعد کمیشن کی سماعت 29 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top